خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 594 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 594

594 افتتاحی خطاب بر موقع سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ 1971ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض ایک نیا روحانی نظام کا قائم کرنا تھا۔اور ایک نیا روحانی آسمان اور زمین بنانا تھا۔آپ نے فرمایا کہ مردوں عورتوں، بچے، بچیوں نے بڑی عظیم الشان قربانیاں اس عمارت کے بنانے کے لئے کیں جس کی غرض سے آپ تشریف لائے تھے۔انہوں نے اپنا کام کیا اور چلے گئے۔آئندہ آپ پر اس کی ذمہ داری پڑتی ہے۔اس لئے آپ کو اپنے اندر وہ اعلیٰ اخلاق ، اعلیٰ کردار، روحانیت و انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور نیکی پیدا کرنی چاہئے جو ایک قوم کے زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے۔آپ نے ناصرات الاحمدیہ کو ایک اچھا شہری بننے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا:۔ہماری قوم کے ہر فرد اور ہر مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ ایک اچھا شہری بنے۔سچائی اس کا شعار ہو۔اعلیٰ قسم کی دیانتداری اس کا وصف ہو۔بے لوث خدمت کا جذ بہ اور شوق اس کے اندر پایا جاتا ہو۔اسی طرح جماعت اور ساری دنیا کے لئے قربانی دینے کا جذبہ اس میں پایا جاتا ہو۔“ نیز بچیوں کو کتاب یا درکھنے کی باتیں حفظ کرنے کی طرف توجہ دلائی جس کو سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بچیوں کے نصاب میں رکھا تھا۔اور اسے حفظ کرنے پر زور دیا تھا۔آپ نے اس بات پر اظہار افسوس کیا کہ سوائے چند لجنات کے اس بارہ میں تسلی بخش رپورٹ موصول نہیں ہوئی حالانکہ ہمیں چاہئے کہ بچیوں کے اندر یہ احساس پیدا کریں کہ ہمارا سب سے پہلا کام وہ ہونا چاہئے جس کا خلیفہ وقت حکم دے۔وقف جدید" کے چندہ کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلائی۔ہر بچی کو اچھا شہری بنے اور پاکستان کی سالمیت وبقا کے لئے دعائیں کرنے کی تلقین کی۔نیز سچ بولنے، بنی نوع انسان کی خدمت کرنے علم سیکھنے اور سکھانے اور قوم کی خدمت کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔( الفضل 22 دسمبر 1971ء)