خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 595
595 افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ 1971ء تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔نمائندگان لجنہ اماءاللہ اور عزیز بہنو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا چودھواں سالانہ اجتماع منعقد ہورہا ہے ہماری بہنوں کو خدا تعالیٰ نے پھر ایک بار توفیق عطا فرمائی اور وہ دور دراز کا سفر کر کے اپنی لجنہ کی نمائندگی کرتے ہوئے مرکز میں تشریف لائی ہیں۔پروگرام میں حصہ لینے کے لئے ناصرات کی بھی اور لجنہ کی بھی ممرات ان کے ساتھ آئی ہیں۔میری دعا ہے اور ان کی کوشش ہونی چاہئے کہ یہاں رہتے ہوئے ان کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہو۔مرکز خود اپنے ساتھ بہت سی برکتیں رکھتا ہے۔ان دنوں میں دعائیں بے حد کرنی چاہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس نصب العین اس مقصد اور اس منزل کو حاصل کرنے کی توفیق دے جس کو حاصل کرنے کے لئے حضرت مصلح موعود نے انچاس سال قبل لجنہ اماءاللہ کی بنیاد رکھی تھی۔آج لجنہ ایک چھوٹی سی مجلس نہیں ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا کے قریباً ہر اس ملک میں جہاں احمدی افراد پائے جاتے ہیں اس کی شاخیں قائم ہو چکی ہیں اور بڑی اچھی اور منظم صورت اختیار کر چکی ہیں۔حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کئی تقاریر میں جو جلسہ سالانہ اور اجتماع کے موقع پر آپ نے فرما ئیں ہمیں توجہ دلائی ہے کہ ہماری باہر کی بعض خواتین ہماری پاکستان کی خواتین سے زیادہ قربانی دینے والی ہیں اور اس دوڑ میں جو ساری خواتین کی دوڑ ہے۔باہر کی خواتین بہت آگے نکلتی جاری ہیں۔پس آپ کو بھی اس دوڑ میں اپنے قدم تیز کرنے چاہیں۔یہ اجتماع جو ہر سال منعقد کیا جاتا ہے اس کی غرض صرف یہ نہیں کہ آپ یہاں بچیوں کو تقریریں کروانے یا کھیلوں میں شامل کرنے کے لئے لے آیا کریں اور انعام حاصل کر کے واپس چلی جایا کریں۔دراصل یہ اجتماع اس غرض سے کیا جاتا ہے کہ یہاں تمام سال کے کاموں کا جائزہ لیا جائے اور جائزہ لے کر پھر آئندہ کے لئے مشورے کئے جائیں اور پھر ان پر عمل کیا جائے تا ہمارا قدم رُکے نہیں بلکہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے اس سال کی رپورٹوں کا جائزہ لینے پر بہت سی نمائندگان سے دوران سال بھی اور اجتماع کے موقع پر بھی اور جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی اور جب بھی کوئی موقع ملا ان سے لجنہ کے متعلق بات کر کے اس نتیجہ پر