خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 593
593 دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔میری عزیز بہنو! ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے جن کے ذریعہ ہم نے زندہ خدا کا چہرہ دیکھا۔جن کے ذریعہ ہمیں زندہ نبی آنحضرت ﷺ پر ایمان نصیب ہوا۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ میں انہیں ان کے غیروں پر قیامت تک فوقیت دوں گا۔“ جن کے متعلق خدا تعالیٰ کا اپنے مسیح سے وعدہ تھا کہ " جو لوگ تجھ سے بیعت کریں گے خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہوگا۔“ لیکن نام کی بیعت نہیں بلکہ حقیقت میں جو عہد حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہم نے آپ کے خلیفہ کے ہاتھ پر باندھا اس کو پورا کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے یہ وعدے ہمارے حق میں پورے ہو سکتے ہیں۔کل ہی ہمارے پیارے آقا نے آپ کو ہوشیار فرمایا ہے کہ کہیں بعد میں آنے والی بہنیں آپ سے قربانیوں میں آگے نہ بڑھ جائیں۔دوڑ میں وہی آگے نکل سکتا ہے جو مسلسل قربانیاں دیتا چلا جائے۔تھوڑی دور چل کر تھک جانے والا منزل حاصل نہیں کر سکتا۔اپنی قربانیوں کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لئے بہت ہی ضروری ہے کہ اگر اپنی اصلاح اور اپنی قربانیوں کے معیار کو بلند کیا جائے تو دوسری طرف اپنی اولا د کو پورے طور پر تیار کیا جائے جو ہماری جگہ لے سکے بلکہ ہم سے زیادہ قربانیاں دینے والی ہو۔میں نے اجتماع کے پہلے دن بھی آپ کو توجہ دلائی تھی اور اب پھر اس طرف توجہ دلاتی ہوں کہ ہمارے ذمہ تربیت کا بہت بڑا کام ہے ہر عورت اپنے بچوں کی ذمہ دار ہے۔یہ آپ کے اختیار میں ہے خواہ آپ ان میں خدا اور اس کے رسول کے عشق میں فنا ہو جانے کا جذبہ پیدا کر دیں یا اس کے بالمقابل دنیا کی محبت ان کے دلوں میں پیدا کر دیں۔رُعب دجال کو ان کے دلوں سے دور کریں کہ موجودہ زمانہ میں اسلام پر دجالیت کا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔جب عقائد کے میدان میں عیسائیت نے شکست کھائی تو اسلام پر حملہ کیا۔پس تربیت کے لئے کوشش کے ساتھ ساتھ دعائیں کریں بے حد۔اپنی نسلوں کے لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضلوں کا وارث اور اپنے بچے عبد بنائے۔دعائیں مانگیں مظبوطئی ایمان کے لئے۔دعائیں مانگیں رشد و ہدایت کے لئے۔دعائیں مانگیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔خصوصاً وہ دعائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لئے فرمائیں۔مصباح نومبر 1970ء