خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 580
580 خطاب سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ 1970ء آج کا اجتماع صرف آپ کا اجتماع ہے۔اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے اور ہمیں ایسے پروگرام بنانے کی توفیق عطا کرے جو آپ کی صحیح تربیت میں محمد ہوں اور آپ کو علم دین سیکھنے اور سچے معنوں میں ناصرات الاحمدیہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین آپ کا نام ناصرات الاحمدیہ ہے یعنی احمدیت کی مدد کرنے والی بچیاں اپنے علم سے، اپنے مال سے اپنے اخلاق سے ، اپنے کردار سے اور اپنے نمونہ سے۔آپ کا دینی علم آپ کی عمر کے لحاظ سے مکمل ہونا چاہئے۔آپ کو اپنی جماعت کے بنیادی مسائل اور ان کے دلائل از بر ہونے چاہئیں۔ناصرات کی ایک بچی بھی ایسی نہیں ہونی چاہئے جس نے وقف جدید میں حصہ نہ لیا ہو۔یہ وہ خصوصی مالی تحریک ہے جو صرف احمدی بچوں اور بچیوں کے لئے کی گئی ہے لیکن ابھی تک ناصرات کو اس کی طرف بہت کم توجہ ہے۔اپنے امام سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہر ارشاد پر عمل کرنا آپ کا پہلا فرض ہے۔آپ کے اخلاق نمونہ ہوں اسوہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ہر خلق جو قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے آپ میں پایا جاتا ہو۔ہر برائی جس سے قرآن نے روکا ہے اس کے قریب بھی آپ نہ پھٹکیں۔آپ کا کردار نہایت پاکیزہ ہو۔شرم و حیا آپ کا جو ہر ہو۔سچائی آپ کی رگ رگ میں رچی ہو۔جھوٹ سے آپ کو نفرت ہو۔صفائی آپ کا شعار ہو۔دیانت دار آپ ایسی ہوں کہ آپ کی مثال دی جاسکے۔پردہ کی پابندی ، لباس میں اسلامی احکام کا خیال رکھنے والی ، اپنے ماں باپ کی فرمانبردار استادوں کے لئے سعادت مند شاگرد ہمسائیوں سے نیک سلوک کرنے والی۔آپس میں ایک دوسرے سے محبت اور اخوت کا سلوک رکھنے والی ہوں۔اپنے سے بڑوں کا ادب کرنے والی ہوں ، آپ ہر حکم پر چلنے والی ہوں۔اگر آپ ایسی بن جاتی ہیں تو یقینا آپ مستحق ہیں کہ آپ کو ناصرات الاحمدیہ کے نام سے پکارا جائے کیونکہ اس صورت میں آپ نام کی ناصرات نہیں ہوں گی بلکہ حقیقی معنوں میں ناصرات ہوں گی۔ہر لحاظ سے احمدیت کی مددگار اور معاون ثابت ہوں گی۔عزیز بچیو! آج سے اکا سی سال قبل اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک پیارے اور محبوب بندہ کو دنیا میں بھیجا۔وہ اکیلا تھا اس کا کوئی مددگار نہیں تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔اس بندہ نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور نصرت کا سہارا لے کر اس دنیا میں ایک باغ لگانے کا کام