خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 581
581 شروع کیا۔بیج بویا گیا۔ننھے ننھے پودے نکلے۔پھول نکلنے شروع ہوئے اور آج وہ ایک لہلہاتا ہوا باغ ہے۔جس کی خوشبو دنیا کے کونہ کونہ تک پہنچ رہی ہے۔جس کے درختوں کے نیچے دنیا کے قافلے پناہ لے رہے ہیں۔میری پیاری بچیو! آپ بھی اس گلشن احمد کی نھی ننھی کلیاں ہیں۔جب باغ لگتے ہیں ، پھول لگائے جاتے ہیں تو کچھ خار دار اور جنگلی بوٹیاں اس میں اگ آتی ہیں جو پھلوں اور پھولوں کے پودوں کو خراب کر دیتی ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی جماعتوں میں بعض کمزور لوگ بھی پیدا ہو جاتے ہیں جن کی صحبت سے اچھوں کے بھی خراب ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔تمہاری کوشش ہونی چاہئے کہ ہمیشہ اچھی اور نیک صحبت اختیار کریں۔کبھی بُری صحبت میں نہ آئیں یار کریں۔بھی کیونکہ بُڑی دوستی تمہیں بھی خراب کر دے گی۔بچپن سے دعاؤں اور ذکر الہی کی عادت ڈالو۔یہی عمر ہوتی ہے جس میں عادتیں راسخ ہوتی ہیں۔ہر وقت یہ بات ذہن میں رہے کہ تم احمدی بچیاں ہو تم حضرت مسیح موعود کی جماعت میں شامل ہو۔کوئی کام، کوئی حرکت ایسی نہ ہو جو احمدیت پر حرف لانے والی ہو۔کوئی فعل کبھی ایسا نہ ہو جو جماعت کے وقار کے خلاف ہو۔حضرت عائشہ کی شادی اس عمر میں ہوئی تھی جو تمہاری ناصرات کی عمر ہے۔لیکن آپ نے دین اور علم سیکھنے اور سکھانے میں اتنی ترقی کی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔آدھا دین عائشہؓ سے سیکھو۔“ پس میری بچیو! یہ زمانہ آپ کے لئے سیکھنے کا زمانہ ہے۔یہ زمانہ روحانی خزانہ کو اپنے ذہن میں محفوظ کر لینے کا ہے۔پس اپنے اس قیمتی زمانہ کا ایک دن بھی ضائع نہ کریں۔قرآن سیکھیں۔آنحضرت ﷺ کے ارشادات ذہن میں محفوظ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے دلائل یاد کریں تا جب عمل کا زمانہ آئے تو آپ کا قدم آگے ہی آگے اٹھتا چلا جائے۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ آپ میں سے ہر کلی کھلے اور اس کی خوشبو سے نہ صرف سارا گلستان احمد معطر ہو بلکہ دنیا کے کونہ کونہ تک یہ خوشبو پہنچے۔آمین۔“ الفضل 18 اکتوبر 1970ء