خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 575
575 مقامات میں جہاں ایک خدا کا نام بھی کوئی نہیں جانتا تھا آج ایسی مخلص بہنیں پیدا ہو چکی ہیں جو اسلام کی خاطر اپنی دیرینہ روایات سب کچھ ترک کر کے اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کی خاطر گزار رہی ہیں۔کتنی بدقسمتی ہے ہماری ان بہنوں کی جنہوں نے احمدی گھرانوں میں جنم لیا جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے گھروں میں پیدا ہوتے ہی احمدیت کی نعمت عطا کی۔لیکن اس نعمت کے باوجوداگر ان کا نمونہ قرآن کی تعلیم رسول کریم ﷺ کی سنت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاوی اور آپ کے خلفاء کے ارشادات کے مطابق گزارنے کی توفیق نہ ملے۔اس چیز سے دل کو خوشی اور مسرت حاصل ہوتی ہے کہ ہماری بہنوں اور بچیوں کا مالی قربانی کا معیار نہایت اعلیٰ ہے اور کسی اور قوم کی عورتیں اس معیار میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔لیکن صرف تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک نمونہ نہیں بن سکتیں۔آج دنیا کی ہر قوم کی خواتین کی نظریں ہماری طرف اٹھ رہی ہیں کہ انہوں نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسلام کے ساتھ دنیا کی نجات وابستہ ہے۔تو ہم یہ دیکھیں کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے ذریعہ سے خود ان کی اپنی زندگیوں میں کیا انقلاب پیدا ہوا ہے۔اگر ان کی زندگی دوسری خواتین کی زندگی سے کچھ مختلف نظر آتی ہے تو پھر ان کو یہ حق حاصل ہے کہ ہمیں بھی اپنی طرف کھینچیں۔قرآن کی تعلیم کی طرف بلانے۔آنحضرت ﷺ کی جماعت میں داخل ہونے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں آنے کی دعوت دینے میں ہم سبھی کامیاب ہو سکتے ہیں جب ہمارا اپنا نمونہ ہو کہ ہم بے دھڑک کہہ سکیں کہ آؤ جماعت احمدیہ کی خواتین اور بچیوں کو دیکھ لو ان کا اٹھنا بیٹھنا لباس طرز رہائش اخلاق گفتار کر دار سب کچھ قرآن مجید کی تعلیم اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ کے مطابق ہے۔لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اپنے نفس کی اصلاح کی طرف توجہ دینے کی پہلے ضرورت ہے۔پس بہت بھاری ضرورت ہے تربیت کی اور یہ تعلیم اپنی بچیوں کو دینے کی کہ سب حسن اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے میں ہے۔دوسروں کی نقالی ہم نے نہیں کرنی شیطان کا موجودہ زمانہ میں سب سے بھر پور حملہ دجالیت اور مغربی تہذیب کی نقل کرنے کے شوق کے ذریعہ کیا گیا ہے۔اور وہ قوم جو دجال کا سر کچلنے اور کسر صلیب کرنے کے لئے مقرر کی گئی ہو اس پر تو رعب دجال کا سایہ بھی نہیں پڑنا چاہیے۔اگر کسی دوسری قوم میں ہمیں اچھی باتیں نظر آتی ہیں تو وہ در حقیقت انہوں نے اسلام سے ہی لی ہیں۔قرآن نے ہی پیش کی ہیں اور انہوں نے اس کو اختیار کرلیا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق جلد سے جلد احمدیت کا غلبہ