خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 574 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 574

574 اور لگا رہے ہیں۔میرے نزدیک اس زمانہ کے شیطان کا سب سے بڑا فتنہ دجالیت کی وہ نقل ہے۔جس میں ہماری عورتیں اور بچیاں اس وقت مبتلا نظر آتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لئے کتنے درد سے دعا فرمائی ہے۔نہ آئے ان کے گھر تک رعب دقبال آپ سب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی بیٹیاں ہیں آپ کو بھی دجال کے رعب میں نہیں آنا چاہیے۔رعب تو در کنار آپ کے دلوں میں ان کی نقل اور ان کی تقلید کرنے سے نفرت ہونی چاہیے۔میرا فرض ہے کہ میں اپنی بہنوں کو بھی اور اپنی بچیوں کو بھی بُرائیوں سے متنبہ کروں۔کیونکہ بحیثیت لجنہ اماءاللہ کی صدر ہونے کے اگر آپکی توجہ ان برائیوں کی طرف نہ مبذول کرواؤں تو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مجرم قرار دی جاؤں گی۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم کسی کو بُرائی کرتے دیکھو تو تمہاری کوشش ہونی چاہیے کہ تم اسے ہاتھ سے پکڑ کر دور کرنے کی کوشش کرو۔اگر ہاتھ سے پکڑ کر اس بُرائی کو دور کرنے کی طاقت نہیں ہے تو اسے نرمی سے محبت سے پیار سے سمجھانے کی کوشش کرو۔اگر یہ بھی نہ کر سکو تو کم از کم یہ مقام ہی تمہیں حاصل ہو کہ تم اس کے اس فعل کو دل میں نا پسند کرو۔ہمارے معاشرے کو ایک مثالی معاشرہ ہونا چاہیے۔اس دنیا میں ایک جنت کا نمونہ ہونا چاہیے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا کہ آپ کے ذریعہ ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بنائی جائے۔نئے زمین و آسمان سے مراد ظاہری اور مادی آسمان و زمین نہیں تھی بلکہ نئے زمین و آسمان سے مراد یہ تھی کہ ایک نیا نظام آپ کے ذریعہ سے قائم کیا جائے اور اس نظام سے وابستہ ہرمرد عورت اور بچہ دنیا کے سامنے وہی نمونہ پیش کریں جو چودہ سو سال قبل کے صحابہ نے اسلام قبول کر کے پیش کیا تھا۔آج یورپ اور امریکہ جو کچھ اپنا فلسفہ اور علم پیش کر رہا ہے وہ سب کی سب خوشہ چیں ہے۔قرآن مجید سب کا سب انہوں نے آنحضرت ﷺ کے صحابہ اور آپ کے متبعین سے حاصل کیا۔لیکن وہی باتیں جو مسلمانوں کے غلبہ کا موجب ہوئیں مسلمانوں نے جب انہیں ترک کر دیا جب قرآن مجید سے محبت کرنی چھوڑی۔جب قرآن مجید کو عظمت دینی بند کر دی۔جب قرآن کی تعلیم پر ان کا عمل نہ رہا۔تو جو کچھ مسلمانوں پہ بیتی تاریخ کا ایک المیہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت پھر سے جوش میں آئی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ پھر مسلمانوں کی ہدایت کا سامان ہوا ہے۔دنیا کے گوشہ گوشہ میں جماعتیں قائم ہو چکی ہیں اور یورپ اور امریکہ کے ان