خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 576
576 ہو تو اس کا صرف اور صرف یہی طریق ہے کہ قرآن کو حرز جان بنالیں اور اپنی زندگیاں قرآن مجید اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ کے مطابق گزاریں۔ہر ماں کا فرض ہے کہ اپنی بیٹیوں کی صحیح تربیت اسلامی رنگ میں کرے۔صرف سکولوں کالجوں میں بھجوا کر سمجھ لینا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے ادارے ذمہ دار ہیں غلط ہے۔اگر آپ کی بیٹی آپ کے سامنے زہر کھانے لگے یا آگ سے کپڑے جلانے لگے تو آپ میں سے ایک ماں بھی یہ برداشت نہ کرے گی لیکن جب وہی بچی بے پردگی اختیار کرتی ہے۔عریاں لباس پہنتی ہے اپنی زینت کو جس کو چھپانے کا حکم ہے نہیں چھپاتی۔قرآن کی تعلیم کے خلاف عمل کرتی ہے تو یقینا وہ زہر کھا لینے سے بڑی خود کشی ہے۔کیونکہ زہر کھا کر تو صرف ایک انسان ختم ہو جاتا ہے لیکن یہ ایسی روحانی خودکشی ہے جو روحانی طور پر نہ صرف اسے ختم کر دیتی ہے بلکہ اس کی نسلوں کی تباہی اور بربادی کی بنیا درکھ رہی ہوتی ہے۔کیونکہ جس ماں کا خود قرآن کی تعلیم پر عمل نہیں خود سنت رسول کریم ﷺ پر عمل نہیں۔جو خود اسلام کی تعلیم سے واقف نہیں۔اسلامی اخلاق سے آشنا نہیں۔جس کا اپنا کر دار اسلام کے مطابق نہیں اس سے یہ توقع اور امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ اس کی گود سے وہ بچے پروان چڑھیں گے۔جو اسلام کے جھنڈے تلے اپنی جان دینا فخر سمجھیں گے۔ہمیں ضرورت ہے اس وقت مجاہدین قرآن کی ہمیں ضرورت ہے ایسی ماؤں کی جن کی گودوں میں واقفین زندگی پروان چڑھیں جو اسلام کے جھنڈے کو لے کر دنیا کے کونے کونے میں پھیل جائیں۔ہمیں ضرورت ہے ایسی خواتین کی جو اسلام کی خاطر جان مال وقت اور اولاد کو قربان کرنے والیاں ہوں جب تک ہم میں سے ہر ایک عورت اس معیار کو حاصل نہیں کر لیتی۔ہم احمدیت کی ترقی میں روک بنتی چلی جارہی ہیں۔لجنہ اماءاللہ کی مبرات اور ان کی عہدہ داران کا سب سے اہم کام اس وقت تربیت کا ہے۔اگر تربیت کی طرف آپ کی توجہ نہیں اور مالی قربانی کے ذکر یا تعلیم کے کام کے ذکر یا خدمت خلق کے کام کے ذکر سے لجنہ کی رپورٹیں پر کر کے بھجوا دیتی ہیں تو آپ کا تربیت کی طرف توجہ نہ دینا ان سارے کاموں پر بھی پانی پھیر دینا ہے۔کیونکہ سب سے اہم کام آپ کا پیدائشی احمدی خواتین اور بچیوں کو حقیقی احمدی مسلمان خواتین اور بچیاں بنانا ہے جیسا کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر آپ کو توجہ دلائی تھی۔ہراحمدی خاتون کام ہے کہ وہ دیکھے اس کے گھر میں پرورش پانے والی بچیوں کا نمونہ قرآن مجید اور رسول کریم ﷺ کے ارشادات اور اُسوہ کے مطابق ہے یا نہیں۔اور عمل بھی اس وقت ہو سکتا ہے جب قرآن مجید کی تعلیم سے اچھی طرح واقفیت ہو۔