خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 573 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 573

573 جائیں۔جو انسان کی اعلیٰ روحانی ترقی اور قرب الہی کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا تھا تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن شیطان نے آدم کی فرمانبرداری اور اطاعت اور اس نظام میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔جب اللہ تعالیٰ کی جناب سے وہ مردود قرار دیا گیا تو اس نے کہا مجھے قیامت تک مہلت دیں۔اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دے دی اس نے اپنے تکبیر میں اللہ تعالیٰ کو یہ چیلنج دیا کہ تیرے بندوں کو میں قیامت تک گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا ان کے دائیں سے بھی ان کے بائیں سے بھی ان کے سامنے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی پرکشش چیزوں کو دکھا دکھا کر لالچ دے کر ان کو تیرے خلاف کروں گا تا وہ اللہ تعالیٰ کے عبد بننے کی بجائے شیطان کے عبد بنیں۔حضرت آدم سے لے کر آدم ثانی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ تک اگر آپ تاریخ عالم پر نظر ڈالیں تو یہی کشمکش دنیا میں نظر آتی ہے کہ جب کوئی خدا تعالیٰ کا رسول اس کی طرف سے آتا ہے اور دنیا کو اس امر کی دعوت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دو اور اس کے سچے عبد بنے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے خدا کی مخلوق کی خدمت کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے محبوب بندہ بنے کی کوشش کرو تو شیطان ان کے دائیں سے بھی حملہ کرتا ہے ان کے بائیں سے بھی ان کے سامنے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔کہ دیکھو خدا کی جماعت میں داخل ہو گے ، اطاعت کا دم بھرو گے قربانیاں دینی پڑیں گی۔مال دینا پڑے گا اولا دوں کو وقف کرنا پڑے گا نظام کی پابندیاں کرنی پڑیں گی۔کبھی کہا جائے گا پردہ کرو۔کبھی کہا جائے گا سینمانہ دیکھو۔کبھی مالی مطالبہ ہوگا کبھی جان کی قربانی کا کبھی وقت کی قربانی کا اور کبھی اولاد کی قربانی کا۔لیکن اگر تم اس اطاعت کا دم نہ بھرو گے تو یہ دنیا بڑی حسین اور پرکشش ہے۔یہ جنگ جو حضرت آدم سے شروع ہوئی اور اب تک جاری ہے اور اللہ تعالیٰ نے آدم ثانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسی لئے بھیجا اور آپ کے ذریعہ سلسلہ خلافت اسی لئے جاری فرمایا تا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء کی ایڑیاں اس شیطان کا سر کچلیں جو حضرت آدم کے وقت سے انسان کو بہکاتا چلا آرہا ہے۔اور آنحضرت ﷺ کی احادیث بتاتی ہیں۔کہ سب سے بڑا مقابلہ شیطان سے انسان کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی مقدر تھا دجالیت جو شیطان کا آخری حربہ ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہی آدم ثانی نے آنا تھا۔اور یہ مقابلہ اپنی پوری طاقت سے اسلام پر ہوا۔اور پوری طاقت سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی بنیا دوں کو ہلا دیا اور اس کی رہی سہی طاقت کو ختم کرنے کے لئے آپکے خلفاء اپنا پورا زور لگاتے رہے