خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 572 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 572

572 اختتامی خطاب بر موقع جلسہ سالانہ مورخہ 28 دسمبر 1969ء وَلَقَدْ خَلَقْنَكُمْ ثُمَّ صَوَّرُنَكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَئِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِّنَ السَّجِدِينَ قَالَ مَا مَنَعَكَ الَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ قَالَ فَاهْبِطُ مِنْهَا فَمَا يَكُونَ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجُ إِنَّكَ مِنَ الصَّغِرِينَ قَالَ انْظِرُ نِى إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَا قُعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ثُمَّ لَأَتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرُهُمْ شَكِرِينَ ) (سورة الاعراف : 12 تا 18 میری عزیز بہنو اور بچیو! آج جلسہ سالانہ کا آخری دن ہے۔آپ میں سے بہت سی بہنوں نے دور در از مقامات سے اسلئے سفر اختیار کیا کہ یہاں آکر جلسہ سالانہ کی برکات سے فائدہ اٹھا ئیں اور روحانی علوم اور روحانی خزائن سے اپنی جھولیاں بھر کر واپس جائیں لیکن جب بھی دوران جلسہ مجھے کسی کام سے جلسہ گاہ سے باہر نکلنے کا موقعہ ملا تو سینکڑوں کی تعداد میں عورتیں اور لڑکیاں باہر پھرتی باتیں کرتیں دوکانوں پر سے چیزیں خریدتیں اور ہنستی کھیلتی نظر آئیں۔سارا سال ہماری بہنیں اور بچیاں اس بات کا انتظار کرتی ہیں کہ وہ بابرکت اور مقدس دن پھر آئیں اور دعائیں کرتی ہیں کہ ہمیں مرکز احمدیت میں جانا نصیب ہوتا کہ وہاں جا کر اپنے آقا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات سنیں۔دعائیں کریں نمازیں پڑھیں ذکر الہی کریں اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا کر واپس جائیں۔لیکن یہاں پہنچ کر اس مقصد کو بھول جاتی ہیں کہ کس کی خاطر آپ نے سفر اختیار کیا تھا۔اس لئے میری آپ سے اور بچیوں سے یہ التجاء ہے کہ آج آخری دن جلسہ کا ہے۔ہماری ایک بہن اور بچی کو بھی سوائے اشد مجبوری کے جلسہ گاہ سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ایک ایک لفظ حضور کی تقریر کا سنیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپکو بھی توفیق عطا فرمائے۔یہ جلسہ جس غرض سے منعقد کیا جاتا ہے اور جس اہم مقصد کے پیش نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی بنیاد رکھی۔ہم اسے پورا کرنے والی ہوں۔قرآن مجید کی جو آیات میں نے اپنی بہنوں کے سامنے تلاوت کی ہیں۔اس میں اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم کی تخلیق روحانی کی تو فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کی اطاعت کر کے اس روحانی نظام میں داخل ہو