خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 553
تشریف لائے تھے۔553 دوسری اہم غرض اجتماعات اور مشوروں کے لئے جمع ہونے کی قرآن مجید نے مَنْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ بیان فرمائی ہے۔یعنی جو نیک باتوں کی تلقین کرتے ہیں۔نیک باتوں میں ہر قسم کے علم ، فن کی تحقیق اور اشاعت بھی شامل ہے اور ہر برائی کے دور کرنے کی سعی اور ہر خوبی کے پیدا کرنے کی کوشش بھی۔قرآن مجید میں دوسری جگہ وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آل عمران:105) بیان فرما کر اسی طرف توجہ دلائی ہے۔اے لوگو! تم میں سے ایک ایسی جماعت ہو جو دنیا کو خیر کی طرف دعوت دے اور ہراچھی نیک بات کی تلقین کرے اور ہر بُری بات سے رو کے اور یہی لوگ کامیاب ہوں گے۔گویا اسلام کے غلبہ کا انحصار دعوت الى الخير - امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر ہے۔ضروری ہے کہ ہماری کارکنات لجنہ اماء اللہ اپنے معاشرہ میں معمولی سی بدی کو بھی پنپتا دیکھیں تو اسے دُور کرنے کی کوشش کریں۔محبت اور پیار سے سمجھانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کی طرف توجہ دلانے اور آنحضرت علی کے ارشادات سنانے کے ساتھ اللہ تعالی کے فضل اور انعامات یاد دلانے اور اس کے عذاب سے دل میں خوف پیدا کرانے کے ساتھ۔غرض یہ طریق استعمال کیا جائے تا ہماری احمدی بہنوں سے کوئی معمولی سے معمولی فعل بھی ایسا سرزد نہ ہو جو خلاف ہو قرآن کے۔جو خلاف ہوسنت رسول اللہ ﷺ کے۔جو خلاف ہوارشاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے۔جو خلاف ہو ہدایت حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے۔جو خلاف ہو اسلام کے۔اور جو خلاف ہو ہمارے وطن پاکستان کے وقار کے۔ایک یا دو عہدہ داروں کے نیک کاموں کی تلقین کرنے سے اصلاح نہیں ہوسکتی۔ہر احمدی خاتون کا فرض ہے۔ہر لجنہ اماءاللہ کی مہر کا فرض ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرے تا وہ بُرائیاں جو اگر آٹے میں نمک کے برابر بھی ہیں تا ہم ہیں ضرور۔وہ بالکل ہم سے دور ہو جائیں اور ہماری زندگیاں قال اللہ وقال الرسول کے مطابق گزریں کہ اسی کا تو عہد ہم نے بیعت کرتے وقت کیا تھا کہ قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کریں گی اور قال اللہ وقال الرسول کو اپنی ہر ایک راہ میں دستور العمل قرار دیں گی۔اس سلسلہ میں سب سے پہلا قدم ترک رسومات کا ہے۔اگر رسومات کی بیڑیوں سے ہمارے پاؤں