خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 552
552 کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ان کے بہت سے مشوروں میں کوئی بھی بھلائی نہیں ہوتی اور جو شخص اللہ کی رضا جوئی کے لئے ایسا کرے یعنی نیک مشورے کرے ہم اسے جلد ہی بہت بڑا اجر دیں گے۔(تفسیر صغیر) قرآن مجید کی یہ آیات ثابت کرتی ہیں کہ اجتماع ہو یا کانفرنس فائدہ مند مجالس وہی ہوتی ہیں جوان تین مقاصد کو سامنے رکھ کر اپنالائحہ عمل تجویز کرتی ہوں۔اول: مَنْ آمَرَ بِصَدَقَةٍ جو اپنے سامنے یہ مقصد رکھیں کہ ہم نے غرباء کی خبر گیری اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کا انتظام کرنا ہے۔بالفاظ دیگر خدمت خلق کا کام اور اس کو وسیع تر کرنے کا منصوبہ ہمارا لجنات کا بڑا مقصد ہونا چاہئے اور ہمارا سالانہ کا موں کا ایک بڑا ضروری حصہ۔چند افراد کی مدد کر دینا، چند حاجت رواؤں کی حاجت کو دور کر دینا کوئی بڑا کارنامہ نہیں۔لجنات کے پیش نظر یہ وسیع پروگرام ہونا چاہئے کہ کوئی احمدی عورت سوال کرنے پر مجبور نہ ہوتا اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔اور اس کی ضروریات زندگی بھی حتی الوسع پوری کی جائیں۔یہ صیح ہے کہ لجنہ اماءاللہ کے ذرائع آمد محدود ہیں لیکن اگر ہر لجنہ اس مقصد کو سامنے رکھے اور صحیح رنگ میں کام کرنے کا پروگرام بنائے تو ان محدود ذرائع سے ہی عظیم الشان کام کئے جاسکتے ہیں۔ضرورت ہے کہ جماعت کی ہر خاتون کے متعلق ہر لجنہ کے پاس مکمل اعداد و شمار موجود ہوں اور بغیر کسی مستحق اور ضرورت مند خاتون کے دست سوال دراز کرنے کے اس کی خود مدد کر دی جائے۔آنحضرت ﷺ کی سب سے بڑی خصوصیت جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ آپ رحمۃ للعالمین تھے۔اللہ تعالیٰ کی محبت۔آنحضرت ﷺ کی کامل اطاعت اور آپ کے رنگ میں رنگین ہونے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔پس اپنے اپنے دائرہ میں ہر احمدی عورت کو دوسرے کے لئے مجسم رحمت بن جانا چاہئے۔رحمت بنیں اپنی اولاد کے لئے۔رحمت بنیں اپنی بہنوں کے لئے رحمت بنیں اپنی شاگردوں کے لئے رحمت بنیں اپنی ناصرات کے لئے رحمت بنیں ہر ملنے جلنے والی کے لئے رحمت بنیں اپنے پڑوسیوں کے لئے قول سے فعل سے عمل سے تا اس کے نتیجہ میں وہ حقیقی اسلامی معاشرہ قائم ہو جائے جس کا ایک نظارہ دنیا چودہ سو سال قبل دیکھ چکی ہے اور جس کا دوسری بار نظارہ دکھانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام