خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 554
554 جکڑے ہوں گے۔ہاتھ بندھے ہوں گے گلوں میں طوق ہوں گے تو ہمارے ذریعہ سے وہ نئی زمین اور نیا آسمان کیسے وجود میں آ سکتا ہے جو ہمارا مقصد زندگی ہے۔افسوس تو یہ ہے کہ تعلیم یافتہ ، روشن خیال۔قرآن مجید پڑھی ہوئی اور احادیث سے واقف مستورات بھی ان رسومات کے چکروں سے اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکیں۔اسلام مذہب ہے سادگی کا۔اسلام تکلفات کو پسند نہیں فرماتا۔اور وہ سادگی کامل اطاعت اور ہر نیک کام میں سرتسلیم خم کر دینے سے پیدا ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بھی ارشاد فرمایا تھا کہ عورتوں سے کہہ دیں کہ بیعت کرنی ہے تو یہ اقرار بھی کرنا پڑے گا کہ لَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوفِ وہ نیک کام میں آنحضرت ﷺ کی نافرمانی نہ کریں گی بلکہ کامل اطاعت کا مظاہرہ ان کی طرف سے ہونے کا عہد کریں تب بیعت قابل قبول ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بیعت لیتے وقت یہ شرط فرمائی تھی کہ کہ اتباع رسم اور متابقت ہوا و ہوس سے باز آئے گا۔ہمارے لئے نجات کا دروازہ تو صرف لا اله الا اللہ میں کھلا ہے۔ہر وہ کام کرنا جس کی قرآن تعلیم دیتا ہے اور ہر وہ کام نہیں کرنا اور اس سے دور بھا گنا جس کو قرآن نے منع فرمایا ہے اور آنحضرت ﷺ کی کامل اتباع زندگی کے ہر پہلو میں کرنا کیونکہ زندگی کا کوئی پہلو بھی تو ایسا نہیں جس میں آپ کا نمونہ ہمارے لئے موجود نہ ہو۔لا اله الا اللہ ہمیں کامل درس تو حید دیتا ہے کہ خدا کے کامل بندے ہو جاؤ۔اس کی مرضی اور اس کے حکم کے سامنے کوئی اور مرضی نہ رہے اپنا سب کچھ قربان کر دو۔رشتے داروں کو ناراض کرنا پڑے۔برادری میں بُر ابنا پڑے۔ناک کٹوانی پڑے سب برداشت کیا جائے اور صرف اللہ کو خوش کرنا مقصد ہو۔ہمارے پیارے امام حضرت خلیفہ امسح الثالث ایدہ اللہ تعالی نے 1966ء کے اجتماع پر آپ کو خاص طور پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا تھا:۔”خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے علاوہ ہماری عزت کے لئے اور کوئی راہ نہیں۔خدا تعالیٰ کے اس مقام عزت کے بغیر کہ جس میں وہ ہمیں کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ہمارے لئے اور کوئی مقام عزت نہیں۔دنیا نے جن مقامات کو عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے ان سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ کوئی سروکار ہے یہ ذہنیت اپنے اندر پیدا کرو۔تا خدا تعالیٰ کے فضلوں کی زیادہ سے زیادہ وارث ہوتی چلی جاؤ تا تمہارا انجام بخیر ہوتا ہم جب اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے پیدا کرنے والے کے پاس پہنچیں تو وہ