خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 540 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 540

540 دے اور یکدم نیکیاں کرنی شروع کر دے اس لئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایک اصول بیان فرمایا ہے۔إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ( سورة هود : 115) انسان کمزور ہے خواہش رکھتے ہوئے بھی اس سے بُرائیاں سرزد ہوں گی کچھ دانستہ کچھ نا دانستہ لیکن اگر انسان نیکیوں کا پلڑا بھاری رکھنے کی کوشش کرتا رہے تو آہستہ آہستہ اس کی نیکیوں کا تو زان بدیوں پر غالب آجاتا ہے۔فلسفہ اخلاق کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دوسرے مذاہب نے اخلاق کو صرف دوسروں تک وسیع رکھا ہے لیکن اسلام نے خود انسان کے اپنے نفس کو بھی اس دائرہ میں شامل کیا ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ (مسند احمد) اے انسان! صرف دوسروں کے حقوق کی ادائیگی ہی تجھ پر واجب نہیں تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔نفس کے حقوق کیا ہیں؟ اپنی صحت، اپنے کھانے اور پینے کا خیال رکھنا۔سردی اور گرمی سے محفوظ رکھنا۔لیکن صرف ظاہری خیال نہیں بلکہ روحانیت کی ترقی کا خیال رکھنا ہر مسلمان کے ذمہ ہے انسان کو ہر وقت جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ میرا قدم نیکی کی طرف بڑھ رہا ہے یا بدیوں کی طرف میری روحانیت ترقی کر رہی ہے یا تنزل کی طرف جارہی ہے۔پس نفس کی جسمانی روحانی تربیت دونوں ہی حق نفس میں جاتی ہیں اور اسلام کی اخلاقی برتری دیگر مذاہب پر ثابت کرنے کے لئے اسلام کی اخلاقی تعلیم کا یہ بہت بڑا اور درخشاں پہلو ہے۔اپنے نفس کے بعد دوسروں سے سلوک کے معاملہ کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ہر انسان کا دل دو قسم کے جذبات سے خالی نہیں نفرت اور محبت۔لیکن یہی دونوں جذبے جب عقل اور مذہب کے ماتحت آجائیں تو اخلاق بن جاتے ہیں۔محبت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قاعدہ کلیہ قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے۔فرماتا ہے:۔قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاءُ كُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَأَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنَ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادِ فِي سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ (سورة التوبة : 24)