خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 541 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 541

541 اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ماں باپ، رشتہ داروں ، خاوندوں ، بچوں ، دوستوں، گھر اپنے مال و متاع سے محبت نہ کرو۔قرآن مجید کی دوسری آیات میں ان سب سے محبت کرنے اور ان کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا گیا ہے۔ہر ایک چیز سے محبت ایک فطری جذبہ ہے لیکن اس آیت میں یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر ایک کی محبت اس کے رتبہ کے مطابق ہو۔اللہ تعالیٰ سے محبت اس کی شان کے مطابق ہو۔آنحضرت ﷺ نے محبت آپ ﷺ کے مقام کے مطابق ہو۔دین کے لئے قربانی اس کی اہمیت کے مطابق دو اور پھر ان کے ساتھ ساتھ اپنے عزیز و اقرباء، وطن سب سے ہی محبت کرو۔صرف یہ خیال مد نظر رہے کہ ان کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت سے نہ ٹکرائے۔ان کی محبت آنحضرت ﷺ کی محبت سے نہ ٹکرائے۔ان کی محبت دین کی محبت سے نہ ٹکرائے۔ان کی محبت دین کے لئے قربانی دینے میں حارج نہ ہو۔پھر خود اہل و عیال کی محبت ان کی اصلاح میں حارج نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيكُمْ نَارًا (سوره التحريم: 7 ) اپنے نفس اور اپنے اہل وعیال کی محبت کا تقاضا ہی یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو بدی سے محفوظ رکھو اور اپنے اہل وعیال کو بھی بدی سے بچاؤ جتنی زیادہ محبت بچوں سے ہو اتنا ہی زیادہ خیال ان کی نیک تربیت کا ہو۔جتنی زیادہ محبت اپنے اہل وعیال سے ہو اتنا ہی ان کو دین کے لئے قربانی کے لئے تیار کرو۔یہ معیار ہے اسلام میں محبت کا۔اور اس معیار پر پورا اترنا ہر مسلمان عورت کا فرض ہے۔نفرت بھی طبعی تقاضا ہے مگر یہ تقاضا بھی عقل کے ماتحت رہے تو خلق کہلائے گا اسلام کی تعلیم اس سلسلہ میں کتنی اعلیٰ اور معاشرہ کو کسی قدر با امن بنانے والی ہے۔کسی سے بے جا نفرت نہ کرو۔کسی کے حالات کا تجسس نہ کرو۔غیبت نہ کرو۔بدظنی نہ کرو، حسد نہ کرو، یہ وہ ساری بُرائیاں ہیں جن کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں اور جن کی وجہ سے معاشرہ میں فساد پیدا ہو جاتا ہے۔اگر ان کو چھوڑ دیا جائے اور اسلام کی تعلیم پر عمل کیا جائے تو وہ معاشرہ جنت بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى اَنْ لَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوَى۔(المائده: 9) کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ اکسائے کہ تم انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دو۔یعنی اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی جب معاملہ کرنا ہو تو انصاف سے کام لو۔خواہ وہ تمہار کتنا بڑا دشمن کیوں نہ ہو دوسری طرف اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكَرْهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ (الحجرات : 8 )