خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 536 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 536

536 آپ ﷺ نے فرمایا تین آدمیوں کے سوا کسی کے لئے مانگنا جائز نہیں ایک وہ آدمی جس نے کسی مصیبت زدہ کی ذمہ داری اٹھائی ہے اسے مانگنے کی اجازت ہے تا کہ وہ اس ذمہ داری کو پورا کر سکے۔دوسرے وہ جس پر کوئی مصیبت آپڑے کسی نے اس کے مال کو تباہ و برباد کر دیا ہو اس کے لئے بھی سوال کرنا جائز ہے تا کہ بقدر کفایت اپنا گزارہ چلا سکے۔تیسرے وہ جس پر فاقہ کی نوبت آگئی ہو اور محلہ کے تین سمجھدار اور معتبر آدمی اس بات کی تصدیق کریں کہ وہ بھوکوں مر رہا ہے اس کے لئے بھی مانگنا جائز ہے تا کہ وہ گزار اوقات کر سکے۔ایسے ضرورت مندوں کے علاوہ کسی کا مانگنا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینا ہے۔زکوة) اگر احمدی اور خصوصاً مستورات آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کریں۔سوال کرنے سے حتی الوسع بچیں تو ان میں عزت نفس پیدا ہو گی محنت کی عادت پڑے گی۔کفایت شعاری کی عادت پیدا ہوگی کیونکہ پسینہ کی کمائی سے جو روٹی کماتا ہے وہ اسراف نہیں کر سکتا۔سوال کرنے کی عادت قومی طور پر کام چور بنادیتی ہے۔محنت کی عادت جاتی رہتی ہے۔آسانی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ مانگ مانگ کر ضروریات پوری ہوتی رہتی ہیں۔ہم احمدیوں کو ہر وقت آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کو مد نظر رکھنا چاہئے اور قومی سطح پر محنت کرنے کے معیار کو بلند کرنا چاہئے۔اسلامی معاشرہ کا ایک فرد ہونے کے لحاظ سے ہر مسلمان مرد اور عورت کا فرض ہے کہ مرد جب کسی مرد سے ملے اور عورت کسی عورت سے ملے تو خواہ وہ جانتا ہو نہ یا جانتا ہو السلام علیکم کہے بحیثیت معاشرہ کے ایک فرد ہونے کے اسلام نے بیمار کی عیادت فرض قرار دی ہے لیکن جہاں مسلمانوں کو ایک دوسرے سے ملنے محبت کے تعلقات رکھنے کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں یہ بھی فرمایا کہ گھر میں جانے سے قبل اجازت لو۔پہلے السلام علیکم کہو اگر گھر میں رہنے والے کہیں کہ اس وقت نہیں مل سکتے تو پیشانی پر بل آئے بغیر واپس چلے جاؤ۔ایسے وقتوں میں کسی کے گھر نہ جاؤ جو گھر والوں کا بے تکلفی اور آرام کا وقت ہوتا ہے مثلاً دو پہر، رات یا بہت صبح۔پھر اسلامی معاشرہ کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے اس پر اپنے معاشرہ کو با امن رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے خواہ مرد ہو یا عورت۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی کے سامنے کوئی شخص کسی اور کے خلاف بات کرے تو وہ اس شخص کو جس کے متعلق بات کہی گئی ہو کبھی نہ پہنچائے۔آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ کہنے والے نے ایک تیر مارا جوں گا نہیں لیکن جس نے بات پہنچائی اس نے زمین پر