خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 535
535 جوان ہو گئے خود کھائیں کمائیں اپنی حرکات کے خود ذمہ دار ہیں انہیں سمجھانے کی کیا ضرورت۔اسلام نے دونوں کو ہی توجہ دلائی ہے بڑوں کی عزت کرو ان کے احکام تمہارے لئے واجب التعمیل ہیں۔بڑوں کو چھوٹوں کی تربیت اور اصلاح کا ذمہ دار ٹھہرایا۔معاشرہ میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک لڑکے یا لڑکی کا رشتہ کہیں ہو رہا ہے اور دوسرا گھرانہ اپنے گھر کا پیغام دے کر یا امید بندھوا کر پہلے رشتہ میں روک پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اسلام کا حکم ہے کہ نکاح پر نکاح کی درخواست نہ بھیجو یعنی جب تک پہلی جگہ جہاں رشتہ ہورہا ہو اس کا قطعی فیصلہ نہ ہو جائے کوئی اور رشتہ نہ بھیجے۔بظاہر معمولی لیکن انتہائی امن کا ماحول پیدا کرنے والا حکم ہے جو معاشرہ کو ایک با امن اور پر سکون فضا عطا کرتا ہے۔اس حکم پر عمل کرتے ہوئے ہر گھرانہ مطمئن رہ سکتا ہے کہ ہمارے رشتوں میں روک نہیں پڑے گی۔مثالی معاشرہ یا بالفاظ دیگر اسلامی معاشرہ کی خوشحالی اور زندگی کے لئے اسلام نے چند قوانین بھی مقرر فرمائے ہیں جن میں سے سب سے پہلا قانون یہ ہے کہ ہر شخص محنت کر کے کھائے۔گو بظاہر تو یہ قانون مرد پر حاوی ہوتا ہے کیونکہ مرد ہی عورت کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ہے۔لیکن کئی دفعہ ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ عورت بیوہ ہے مرد معذور ہے اس صورت میں عورت بھی اس قانون کے ماتحت آجاتی ہے کہ اس کا کام بھی اگر وہ معذور نہیں تو محنت کرنا ہے۔گومرد اور عورتوں کے کاموں کی نوعیت میں فرق ہوگا۔حضرت زبیر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم سے جو شخص رسی لے کر جنگل میں جاتا ہے اور وہاں سے لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر اٹھا کر بازار میں آتا ہے اور اسے بچتا ہے اور اس طرح اپنا گزارہ چلاتا ہے اور اپنی آبرو اور خود داری پر حرف نہیں آنے دیتا وہ بہت ہی معزز ہے اور اس کا یہ طرز عمل لوگوں سے بھیک مانگنے سے ہزار درجہ بہتر ہے نہ معلوم وہ لوگ اس کے مانگنے پر اسے کچھ دیں یا نہ دیں۔( بخاری کتاب الزکوة ) محنت کی کمائی سے کھانے کا جذبہ نوجوانوں میں پیدا کرنا ان کی ماؤں کا کام ہے۔میں نے بسا اوقات ماؤں کو جب ان کے بچے بیکار بیٹھے ہوں یہ کہتے سنا ہے کہ کیا کریں کوئی مناسب کام نہیں ملتا۔آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد انہیں اپنی اولاد کو سناتے رہنا چاہئے کہ بیکار بیٹھے اور سوال کرنے سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرے یا ہاتھ کی محنت سے کوئی اور کام کرے۔آنحضرت ﷺ نے سوال کرنے سے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے۔