خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 519
519 لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ (سورة ابراهيم: 8) میری نعمتوں کا گر تم شکر ادا کرتے رہو گے تو میں ان نعمتوں میں اور اضافہ کرونگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ وہ اپنے فضل اور اپنی نعمت کا اثر بندہ پر دیکھے یعنی خوشحالی کا اظہار اور توفیق کے مطابق اچھا لباس اور رہن سہن اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔صرف یہ کہ تکبر یا اسراف کا پہلو اس میں نہ نکلتا ہو ، بعض لوگ اس خیال کے بھی ہوتے ہیں کہ باوجود خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے حاصل ہونے کے انسان ان کا استعمال نہ کرے ان کے نزدیک یہ انکساری اور عاجزی کا اظہار ہے۔یہ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ جو نعمتیں عطا فرماتا ہے ان کا استعمال نہ کرنا یا اس کی دی ہوئی قوتوں کا غلط استعمال یہ ناشکر گزاری ہے۔شکر گذار انسان کا کام ہے کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں ،صلاحیتوں ، علم ، عقل، زندگی کے سامانوں سے صحیح طور پر فائدہ اُٹھائے اور اپنے رب کا شکر گذار بندہ بنے۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ جو انسانوں کا شکر گزار نہیں ہوتا۔وہ خدا تعالیٰ کا شکر بھی صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتا۔حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” جس پر کوئی احسان کیا گیا ہو اور وہ احسان کرنے والے کو کہے اللہ تجھے اس کی جزائے خیر دے تو اس نے ثناء کا حق ادا کر دیا۔“ ایک اور عیب جس کی قرآن نے نشاندہی کی ہے جس کا پایا جانا اللہ تعالیٰ کے پیار سے محروم کر دیتا ہے۔وہ اسراف ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (سورة الانعام: 142) فضول خرچی انسان اپنے نفس کو دوسروں کی خوشی پر مقدم رکھنے کیلئے کرتا ہے۔یا دکھاوے کیلئے کرتا ہے۔سورۃ فرقان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے بندوں کی یہ خصوصیت بیان فرمائی ہے:۔وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا (سورة الفرقان:68) اور وہ اللہ کے بندے ایسے ہوتے ہیں کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی سے کام نہیں لیتے اور نہ بخل کرتے ہیں۔اور ان کا خرچ ان دونوں حالتوں کے درمیان درمیان ہوتا ہے۔عورتوں کو اللہ تعالیٰ کے اس انداز کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے۔شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں عموماً اسراف کا باعث عورتیں ہوتی ہیں۔نت نئے بدلتے فیشنوں کی وجہ سے بھی عورتوں میں اسراف پایا جاتا ہے۔آج اس کپڑے کا فیشن جاتا