خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 520 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 520

520 رہا۔بے ضرورت صرف رواج اور فیشن کی وجہ سے نیا کپڑا بنالیا۔حضرت مصلح موعود نے جماعت کیلئے تحریک جدید جاری فرما کر ایک عظیم الشان احسان فرمایا ہے۔تحریک جدید کی ریڑھ کی ہڈی سادگی ہے۔اپنے لباس، شادیوں کے اخراجات دیگر اخراجات ، ہر چیز میں سادگی اختیار کریں۔تا اس سے جور تم بچے وہ اشاعت اسلام اور تعمیر مساجد کیلئے خرچ ہو۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔اصلی کام ہر احمدی مرد اور احمدی عورت کا قربانی ہے تو ہر ایک عورت مرد سادہ زندگی بسر کرے۔کیونکہ ہم کو نہیں معلوم ہمیں کیا کیا قربانیاں کرنی پڑیں گی۔دیکھو اگر یہ ہی عادت ڈالیں کہ جو ہوا وہ خرچ کر دیا۔حالانکہ قرآن مجید میں صاف حکم ہے کہ اپنے مال میں نہ بخل کرو۔نہ اسراف تو نتیجہ یہ ہوگا کہ جب دین کے لئے ضرورت ہوگی تو کچھ بھی دینے کیلئے نہ ہوگا۔پس میں یہ کہتا ہوں کہ سادہ زندگی بسر کرو۔“ الازهار لذوات الحمار صفحہ 291۔تقریر جلسہ سالانہ خواتین 1934 ء کی ایک اور بڑائی ہے اور وہ جس میں پائی جائے وہ بھی محبت الہی کی جھلک نہیں دیکھ سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِين۔اللہ تعالیٰ رؤف رحیم ہے۔سراسر محبت اور شفقت ہے وہ اپنے بندوں پر ظلم برداشت نہیں کرسکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:۔" تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ ہم نے عرض کیا جس کے پاس نہ روپیہ ہو نہ سامان۔آنحضور کے نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوۃ کے اعمال لیکر آئے گا۔لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی۔کسی پر تہمت لگائی ہوگی کسی کا مال کھایا ہوگا۔اور کسی کا ناحق خون بہایا ہو گا یا کسی کو مارا ہوگا۔پس ان مظلوموں کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی۔یہانتک کہ اگر ان کے حقوق ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس کے ذمہ ڈال دیئے جائیں گے۔اور اس طرح جنت کی بجائے اُسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔یہی شخص در اصل مفلس ہے۔مسلم کتاب البر والصلة ) پس ظلم کرنے سے ہر وقت بچتے رہنا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق ظالم خواہ کتنی ہی عبادت کیوں نہ کرے وہ مقبول نہیں ہوگی۔آنحضرت کا ایک اور ارشاد ہے۔اُنْصَرُ أَخَاكَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُومًا۔(بخارى كتاب المظالم اپنے بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مدد کرو۔صحابہ نے پوچھا۔یا رسول اللہ مظلوم کی مدد تو سمجھ میں