خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 510
510 اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر سکے جو اس کی زندگی کی پیدائش کا اعلیٰ ترین مقصد ہے۔حضرت مصلح موعود نے بھی اپنی ایک تقریر میں اس مقصد کو بیان فرمایا کہ احمد بیت ہی حقیقی اسلام ہے۔اور آج قرب الہی کا دروازہ صرف احمدیت کے واسطہ سے کھلا ہے۔فرماتے ہیں:۔احمد بیت اللہ تعالیٰ سے ایسے تعلق کا نام ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے بندے کا اتصال ہو جائے اور بندہ اللہ تعالیٰ کے پیاروں اور محبوبوں میں شامل ہو جائے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فرق نہیں کرتا۔اس کا دروازہ ہر ایک بندے کے لئے کھلا ہے۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ بندہ اپنے اندر یہ تڑپ پیدا کرے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ملے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔اور میری زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔الا زہار لذوات الخما رص 1425 ہر مسلمان یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ مجھے اپنے پیدا کرنے والے سے محبت ہے لیکن اس کی محبت کو پر کھنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک معیار قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے فرمایا :۔قُلْ إِنْ كَانَ آبَاءُ كُمْ وَابْنَاءُ كُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوهَاوَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِاَمُرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ ﴿سورة التوبه: 24 ترجمہ: تو مومنوں سے کہدے کہ اگر تمہارے باپ داد سے اور تمہارے بیٹے اور تمہارے دوسرے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارتیں جن کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور وہ مکان جن کو تم پسند کرتے ہوتم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد کرنے کی نسبت زیادہ پیارے ہیں تو تم انتظار کرو۔یہاں تک کہ اللہ اپنے فیصلہ کو ظاہر کر دے اور اللہ اطاعت سے نکلنے والی قوم کو بھی کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا۔یہ معیار ہے دعوئی محبت الہی کا۔اور اس عہد بیعت کو پورا کرنے کا جو ایک احمدی بیعت کرتے وقت باندھتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کے مقابلہ میں اپنے اہل وعیال زیادہ عزیز ہیں تو خدا تعالیٰ سے محبت کا دعوئی غلط۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے میں قوم و بُرادری کی روایات حائل ہیں تو بھی محبت الہی کا دعوی باطل۔کیونکہ اطاعت رسول کے نتیجہ میں ہی اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہوتی ہے اگر اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربانیاں کرنے میں اولا دیا گھر کی محبت روک بنتی ہے۔تب بھی