خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 511
511 محبت الہی کا دعویٰ صحیح نہیں۔خدا تعالیٰ کی محبت بالا ہونی چاہئے سب محبتوں پر۔اللہ تعالیٰ کا ادب فائق ہو سب حاکموں کے ادب پر۔اور اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے قربان کر دے۔تب محبت الہی کا دعویٰ صحیح سمجھا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی مضمون کو ان اشعار میں بیان فرمایا ہے۔اسلام چیز کیا ہے خدا کے لئے فتا ترک رضائے خویش بیٹے مرضی خدا پنے جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس راہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات مذکورہ بالا آیت میں اس امر کا انداز بھی ہے کہ عہد بیعت باندھ کر محبت الہی اور اطاعت رسول کا دعویٰ کر کے پھر اللہ تعالیٰ کی محبت کے مقابلہ میں کسی اور کی محبت کو ترجیح دے تو وہ فاسقین کے گروہ میں شمار ہوگا۔ایسی قوم کو اللہ تعالیٰ کبھی کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا۔گویا دین و دنیا کی کامیابی کا ضامن ہے اپنے دعوئی پر پورا ترنا۔اپنے دعوئی محبت الہی کو سچ کر دکھانا۔اپنے دعوئی اطاعت رسول کو صحیح ثابت کر دینا اور اپنے دعوئی قربانی کا خواہ جان کی ہو یا مال کی۔عزت کی ہو یا اولاد کی۔اپنے عمل سے ثبوت دینا۔باوجود دعوی محبت کے بھی ایک انسان اگر اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستہ پر نہ چلے تو بھٹک جاتا ہے۔اس لئے اس راستہ پر چلنے کیلئے بھی انہی ذرائع کو اختیار کرنا ہو گا۔جو محبت الہی کے ذرائع ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید کی روشنی میں پانچ ذرائع بیان فرمائے ہیں:۔(1) عقیدہ کی تصیح (2) نیک صحبت (3 معرفت (4) صبر وحسن ظن (5) دُعا ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 461) ان میں سے سب سے پہلا عقیدہ کی تصحیح ہے یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ وہ محبت الہی کو حاصل کر سکے۔اس کا عقیدہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی قوتوں کے متعلق بالکل صحیح ہونا چاہئے۔محبت بڑھتی ہے حسن سے یا احسان سے جتنی زیادہ اعلیٰ جتنی زیادہ خوبصورت اور عمدہ چیز دیکھیں گے وہ زیادہ اچھی لگے گی۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا آپ کو علم نہ ہو گا۔اس کی تمام صفات پر ایمان نہ ہوگا۔یہ یقین نہ ہو گا کہ وہ دعائیں سنتا ہے۔وہ ہدایت کے سامان بہم پہنچاتا ہے۔ہر مشکل کے وقت وہی مشکل کشا ہے غفور ہے۔ستار ہے تو آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کیلئے اتنی محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔جتنی اس کی صفات کے جلووں پر غور کرنے اس کے