خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 509
509 خطاب اجتماع راولپنڈی 15 ستمبر 1968ء کو لجنہ اماءاللہ راولپنڈی کے اجتماع کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا:۔ہر مذہب تو حید کا پیغام لایا ہے۔اور ہر مذہب نے یہ دعویٰ کیا کہ مذہب کے ذریعہ اس کے ماننے والوں کا تعلق اس کے پیدا کرنے والے سے پیدا ہوتا ہے۔لیکن ہر مذہب ایک محدود زمانہ اور ایک خاص قوم کے لئے تھا۔کسی مذہب کے ماننے والے اب یہ دعوی نہیں کر سکتے کہ اس کے ماننے والوں کا زندہ تعلق ان کے خالق سے اب بھی ہو سکتا ہے۔یہ دعویٰ صرف اور صرف اسلام کا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور غلامی میں اب بھی آپ کے ماننے والے اور آپ کی سچی فرمانبرداری کرنے والے درگاہ الہی میں قرب پاتے ہیں۔پاتے رہے ہیں اور پاتے رہیں گے۔زمانہ نبوی سے دوری کے باعث پھر ایک بار خالق و مخلوق میں پردے حائل ہو چکے تھے۔دنیا اپنے پیدا کرنے والے سے دُور ہو چکی تھی اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تا آپ دنیا کو بتائیں کہ ان کا خدا زندہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں اور قرآن زندہ کتاب ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے اب بھی انسان برکتیں حاصل کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی بعثت کی غرض بیان فرماتے ہیں:۔وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہوگئی ہے اس کو دور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں۔۔۔وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے۔اس کا نمونہ دکھاؤں اور خدا کی طاقتیں جو انسان کے اندر داخل ہو کر توجہ یا دعا کے ذریعہ نمودار ہوتی ہیں حال کے ذریعہ سے نہ محض قال سے ان کی کیفیت بیان کروں اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی تو حید جو ہر ایک قسم کے شرک کی آمیزش سے خالی ہے جواب نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائی پودا لگا دوں اور یہ " سب کچھ میری قوت سے نہیں ہوگا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہو گا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے۔روحانی خزائن جلد 20 لیکچر لاہورص: 180 مذکورہ بالا حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض بھی دنیا کو کامل تو حید پر قائم کرنا اور قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کروانا تھا جس کے نتیجہ میں انسان کا تعلق اپنے رب سے قائم ہو۔وہ