خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 507
507 پانچویں اہم بات جو مذکورہ بالا آیت میں بیان کی گئی ہے وہ وَاتَّقُوا کے الفاظ ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرو اور تقویٰ اختیار کرو۔وَاتَّقُوا کے الفاظ بعد میں آئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی تقویٰ قرآن مجید کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی پیدا ہو سکتا ہے اور یہ بھی قرآن کے احکام پر عمل بھی کرو اور تقویٰ بھی اختیار کرو۔ان دونوں باتوں کے نتیجہ میں تم اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کر سکتے ہو۔تقویٰ کا لفظ بڑے وسیع معانی پر مشتمل ہے۔تفصیل بیان کرنے کا وقت نہیں۔مختصراً اس کے معنے ہیں کہ ہر فعل میں اللہ تعالیٰ کو ڈھال بنالینا۔اور جس کی خدا ڈھال بن جائے اس پر کوئی شیطانی وار کارگر نہیں ہوسکتا۔اور اللہ تعالیٰ اسی کی ڈھال بنتا ہے۔جو اس کے احکام پر ہے۔تقویٰ کے معنی یہ بھی ہیں کہ ہر کام کرتے ہوئے یہ بات مدنظر رہے کہ میرا یہ فعل اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف تو نہیں۔میرے اس کام کرنے سے اللہ تعالیٰ ناراض تو نہیں ہو جائے گا۔اس حد تک خوف الٰہی کا غلبہ طاری رہے تو بہت سی بُرائیوں اور گناہوں سے انسان بچ جاتا ہے۔خود اللہ تعالیٰ نے بھی تو یہی فرمایا ہے۔هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کہ جو تقوی اختیار کرتا ہے قرآن مجید ان کو روحانیت کے بلند مقامات تک پہنچا دیتا ہے۔انسان خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے سے صرف اسی وقت انکار کرتا ہے جب اس میں کبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پرواہ نہ ہو۔ہم کیوں عمل کریں۔ہمیں کیا ضرورت ہے۔ہم نظام کی اطاعت کیوں کریں وغیرہ۔ورنہ ایک متقی شخص کو جب اور جس وقت بھی یہ پتہ چلے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کے متعلق یوں فرمایا ہے وہ ضرور عمل کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقویٰ کو نیکی کے زینہ پر چڑھنے کا پہلا قدم قرار دیا ہے۔حضور فرماتے ہیں۔ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے پھر آپ فرماتے ہیں اسلام چیز کیا ہے ؟ خدا کے لئے فنا ترک رضائے خویش بیٹے مرضی خدا جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس راہ میں زندگی نہیں ملتی بجز معمات یعنی حقیقی اسلام کامل فرمانبرداری کا نام ہے اللہ تعالیٰ کا ہر حکم پورا کرنے کی خاطر اپنے پر موت وارد