خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 506
506 یہ حکم پہنچائیں تا آئندہ کوئی عورت یا بچی لاعلمی کے باعث یہ غلطی نہ کرے۔قرآن مجید کے مطابق تو قرآن پڑھتے وقت شور کرنا کفار کا کام تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَاتَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ۔سورة حم السجدة: 27 کافروں نے کہا کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے کے وقت شور مچاؤ تا کہ تم غالب آجاؤ۔کفار سمجھتے تھے کہ شور مچائیں گے کسی کے کانوں تک آواز نہ جائے گی تو غلبہ ہمارا ہوگا اس کے برعکس خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم خاموش رہو۔اور اس کے نتیجہ میں تم پر خدا تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں گی کامیابی نصیب ہوگی۔مومنین کی تو خصوصیت ہی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ :۔إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمُ ايْتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا۔(سورة الانفال:3) مومنین کی شان تو یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں۔ان میں خشیت پیدا ہو جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی آیتیں ان پر پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان کو بڑھا دیتی ہیں اگر قرآن کریم پڑھا جارہا ہو اور دو چار آپس میں باتوں میں مصروف ہوں تو نہ ان کے دل خوف خدا سے لرز رہے ہوں گے نہ ان کے ایمانوں میں زیادتی ہو رہی ہوگی۔کیونکہ ان کی پوری توجہ ان مضامین کی طرف نہ ہوگی۔جو قرآن مجید کی ان آیات میں بیان ہو رہے ہوں گے۔پس مذکورہ بالا اوصاف اپنے میں پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ جب قرآن پڑھا جارہا ہو تو آپ خاموشی اور پوری توجہ سے اس کو سنیں اور اس کے مضامین پر غور کرنے کی عادت ڈالیں۔پس ہر احمدی بچی کو قرآن مجید پڑھنے اور سننے ہر دو کے آداب کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔جب لغویات سے پر ہیز کریں گی۔نفس پاک ہوں گے تو قرآن مجید پر غور و تدبر کرنے کے نتیجہ میں اور قرآنی تعلیم اور اس کے احکام پر عمل کرنے سے وہ کیفیت پیدا ہوگی جو زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔گناہوں، بُرائیوں، بے اعتدالیوں سے بچ جائیں گی اور نیکیوں کی طرف قدم اُٹھنا شروع ہو جائے گا۔قرآن مجید کی عظمت اور محبت دل میں پیدا ہوگی جس کے نتیجہ میں دل کی اور روح کی کیفیت یہ ہوگی کہ دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے