خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 504 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 504

504 ساری زندگی کے ہر لمحہ سے کی۔آپ کا ہر قول اور فعل قرآن کی تعلیم کے عین مطابق تھا۔پس کی اتبعوہ میں قرآن کے احکام پر عمل کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگین ہونا دونوں ہی باتیں آجاتی ہیں۔قرآن پر عمل کرنے کیلئے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ قرآن سے محبت ہو اور اس کا احترام ہو۔قرآن سے محبت رکھتے ہوئے اس کی بالکل صحیح تلاوت کرنی سیکھیں۔کل مسجد مبارک میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ہر بات اور کام کے متعلق اسلامی آداب سیکھیں۔قرآن مجید کے بھی کچھ آداب ہیں ان کو ہر وقت مد نظر رکھنا چاہئے کیونکہ قرآن کریم پر غور و فکر کرنے سے پہلے قرآن کی قرآت کا درجہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (سوره العلق : 2) اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے تجھے پیدا کیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جہاں بعثت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد بیان فرمائے ہیں۔وہاں سب سے پہلے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِہ فرمایا ہے۔غرض تلاوت قرآن کریم نہایت ضروری ہے۔اور اس کے کچھ آداب ہیں۔سب سے پہلا ادب پاکیزگی ہے۔فرماتا ہے لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعه: 80) طهارت جسمانی بھی مراد ہو سکتی ہے اور باطنی بھی۔خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ ظاہر کا باطن پر اثر پڑتا ہے۔یعنی ظاہر بھی صاف رہنا چاہئے اور باطن بھی۔عربی میں طَاهِرُ القِیاب اس شخص کیلئے بھی بولا جاتا ہے جو ا چھے کام کرتا ہو اور اعلیٰ اخلاق کا مالک ہو۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ المُتَطَهِّرِينَ (سورۃ بقرہ:223) پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے۔پس قرآن پڑھنے اور سیکھنے اور اس کے علوم پر عبور حاصل کرنے کیلئے ظاہری اور باطنی طہارت کا اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔نہ ظاہر گندہ ہو نہ دل میں بُرے خیالات ہوں۔نہ اپنے کردار اور اخلاق پر گندگی کا کوئی دھبہ لگنے دیا جائے۔باطنی طہارت پر سب سے بڑا دھبہ جھوٹ ہوتا ہے۔جھوٹ بولنے والا روحانیت حاصل نہیں کر سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاق کی ایک علامت جھوٹ بولنا بھی بتائی ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید سے فرمایا:۔اَلا وَقَوْلَ النُّوُرِ اَلا وَقَوْلَ النُّورِ (بخاری کتاب الشهادت جھوٹی بات کہنے سے بچو۔پس قرآن سیکھنے کیلئے اپنے آپ کو پاکیزہ بنانے کی کوشش کرو اور قرآن کی تعلیم پر عمل کرو۔قرآن کی تعلیم خود مطہر ہے اس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں آپ بھی مطہر بن جائیں گی۔