خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 503 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 503

503 خوف کا مقام ہے۔خدا کا نبی ہم میں آیا اس نے ہمیں قرآن سکھایا اور آپ کے خلفاء نے قرآن کی تعلیم کی اشاعت میں ہی اپنی زندگیاں گزاریں اب حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ساری تحریکات کا مرکزی نقطہ تعلیم قرآن ہی ہے جس کی ایک حد تک تکمیل فضل عمر تعلیم القرآن کلاس کے ذریعہ بھی ہو رہی ہے قرآن کی تعلیم کا یہ مطلب نہیں کہ صرف پڑھ لو۔تفسیر یاد کر ولو بلکہ قرآن مجید کے نزول کا مقصد انسان کو ظلمت سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانا ہے جیسا کہ فرماتا ہے:۔الراكِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ۔۔۔(سورة ابراهيم: 2) اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ ہم نے تجھ پر قرآن مجید کو اس غرض سے نازل کیا ہے کہ تو تمام لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے۔صرف پڑھ لینے سے تو انسان ظلمتوں سے نکل کر نور حاصل نہیں کر سکتا۔جب تک قرآن مجید کے تمام احکام پر عمل نہ کرے اور ہر بات سے جس سے منع فرمایا گیا ہے نہ رکے۔اپنی مرضی سے کسی حکم پر عمل کر لیتا جس پر عمل کرنے کو جی نہ چاہا چھوڑ دینا۔مثلاً نماز، روزہ پر تو عمل رہا۔خدا کی راہ میں مالی قربانی سے گریز کیا۔یا بڑھ چڑھ کر چندے تو دے دیئے لیکن قرآن کے ایک واضح حکم پردہ کرنے سے اجتناب کیا۔یہ یہودیوں والا عمل ہے۔بیسیوں احکام قرآن مجید کے ہم قرآن مجید کا ترجمہ نہ جاننے اور مطلب نہ سمجھنے کے باعث توڑتے ہیں۔پس یا درکھو قرآن مجید کوئی قصہ کہانی یا تاریخ کی کتاب نہیں کہ پڑھ چھوڑا اور غافل ہو گئے۔یہ تو تمہاری دینی، دنیوی اور روحانی ترقیات کیلئے ایک دستور العمل ہے جس پر چل کر تم اس دُنیا میں اپنی آنکھوں سے جنت دیکھ سکتی ہو۔تمہارے دلوں پر قرآن کی حکومت ہو۔تمہارے خیالات پر قرآن کی حکومت ہو۔تمہارے گھروں میں قرآن کی حکومت ہوتا اس کے نتیجہ میں ہمارا سارا معاشرہ قرآنی معاشرہ بن جائے۔اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو یہ فرمایا کہ قرآن کی اتباع کرو۔دوسری طرف یہ فرما یا قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ آلِ عمران: 32) کہ اگر خدا کی محبت کی خواہش ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم بقدم چلنا ہو گا۔تب محبت الہی حاصل کر سکتے ہو۔بظاہر دو الگ باتیں ہیں لیکن حقیقت میں ایک ہی بات ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن مجید کی عملی تفسیر ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرآن آپ کے اخلاق کی تصویر کھینچنا چاہتے ہو تو قرآن پڑھ لو۔(مسند احمد بن حنبل) بالفاظ دیگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی تفسیر اپنے قول فعل کردار ، اخلاق نمونہ اور اپنی