خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 505
505 دوسرا ادب یہ ہے کہ جب قرآن پڑھو تو اعوذ باللہ ضرور پڑھو صرف الفاظ کا دہرانا کافی نہیں دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ ہر شر۔ہر بُرائی، ہر وسوسہ سے چاہیں۔جب دل کی گہرائیوں سے اعوذ پڑھیں گی تو ہر قسم کے شیطانی اثرات سے محفوظ ہو جائیں گی اور احکام قرآنی پر عمل کرنے میں دل میں اگر تذبذب اور وسوسہ ہوگاؤہ دُور ہو جائے گا۔آپ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجائیں گی۔اور جو اللہ کی پناہ میں آجائے اس پر شیطان کا تسلط نہیں ہوسکتا۔تیسرا ادب قرآن مجید پڑھنے والے کیلئے یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کی جائے۔فرماتا ہے:۔رَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا۔(سورة المزمل: 5) قرآن کی ہر آیت ہر لفظ کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرو۔غور کرو۔تدبر کرو۔اللہ تعالیٰ سورہ ص آیت 30 میں فرماتا ہے: كِتَابٌ اَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا۔(ص: 30) اس مبارک کتاب کو ہم نے تجھ پر اس لئے اتارا ہے کہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور وفکر کریں۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلَى قُلُوبِ أَقْفَالُهَا۔(محمدٌ : 25) کیوں یہ لوگ قرآن پر تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں۔یعنی قرآن مجید پر صرف وہی غور نہیں کرتا یا کر سکتا جس کے دل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی بداعمالیوں کے نتیجہ میں قفل لگ جائے۔جب قرآن مجید کی آیات زمین و آسمان کی پیدائش۔اللہ تعالیٰ کی صفات پر انسان صاف دل کے ساتھ غور کرے گا تو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے بے حد محبت پیدا ہوگی اور اس کے سامنے اس کی روح سجدہ ریز ہو جائے گی۔قرآن مجید پڑھنے والے کے علاوہ کچھ آداب قرآن کریم سننے والے کیلئے بھی ہیں جن پر عمل کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔اللہ تعالیٰ سورہ اعراف میں فرماتا ہے:۔وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَانْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (سورة الاعراف آیت 205) اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔صاف صاف الفاظ میں قرآن مجید پڑھے جاتے وقت مکمل طور پر خاموش رہنے کا حکم ہے۔غور وفکر اور تدبر اور پوری توجہ خاموشی کو چاہتی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ہماری مجالس اور درسوں کے وقت اس کا پورا اہتمام نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرمائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پورے طور پر اطاعت کرنے والیاں بنیں۔ہمارا فرض ہے کہ اپنے اپنے دائرہ واقفیت میں ہر عورت اور ہر بچی تک خدا تعالیٰ کا