خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 502
502 بنے گا۔اس کے آگے بھی رحمتیں ہوں گی۔پیچھے بھی رحمتیں ہوں گی بشارتوں اور نعمتوں کا ایک سلسلہ ان کیلئے قائم ہو جائے گا۔مبارک کے ایک اور معنے بھی ہیں جب انہی خیر و برکات کا کسی پر اسطرح نزول ہو کہ بظاہر پتہ ہی نہ لگے کہ کہاں سے اور کس ذریعہ سے ہوا ہے اور اتنا ہو کہ شمار نہ کیا جا سکے تو اُسے مبارک کہتے ہیں۔ان معنوں کی رو سے هذا کتاب انزلناہ مبارک کے یہ معنے ہوں گے کہ اس کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں انسان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے ایسے انعامات اور برکات نازل ہوتی ہیں جن کا نہ احاطہ کیا جاسکتا ہے نہ ان کا شمار۔اور ایسے ایسے عجیب طریقوں سے ان کا ظہور ہوتا ہے جن کو سمجھنے سے انسانی عقل قاصر رہ جاتی اور دنیا ورطہ حیرت میں ڈوب جاتی ہے۔چوتھی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بیان فرمائی ہے کہ تمہاری روحانی ترقی کیلئے میں نے اعلیٰ ترین سامان اس عظیم الشان کتاب کے ذریعہ سے کر دیئے ہیں۔اب تمہارا کام ہے۔فاتبعوہ اس کے پیچھے چلو۔قرآن کے ہر حکم پر عمل کرو۔اسے اپنا دستور العمل بناؤ۔قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ عمل ہے۔چودہ سو سال قبل مسلمانوں نے اس گڑ کو سمجھا۔قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا اور اس کے نتیجہ میں دنیا ہی ان کے ذریعہ جنت بن گئی۔جب عمل کرنا چھوڑ دیا۔بدعتیں پیدا کر لیں۔مغز اسلام سے دور جاپڑے صرف نام کے مسلمان رہ گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا تا پھر دُنیا کو قرآن کا تابع بنائیں۔قرآن کریم کے ہر حکم پر چلنا اور چلنے میں سعادت محسوس کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔قرآن مجید نے یہود کی سب سے بڑی برائی یہی تو بیان فرمائی ہے کہ :۔افَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يُفْعَلُ ذَالِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى اَشَدِ الْعَذَابِ (البقره: 86) اللہ تعالیٰ یہود سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ کیا تم کتاب کے ایک حصہ کا انکار کرتے ہو۔پس تم میں سے جو ایسا کرتے ہیں ان کی سزا اس جہان کی زندگی ہی میں رسوائی اُٹھانے کے سوا اور کیا ہے جو انہیں ملے گی اور وہ قیامت کے دن اس سے بھی سخت عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔یعنی کتاب اٹھی کے جس حکم کو ماننے میں اپنا فائدہ نظر آتا ہو مان لینا اور جس حکم کو ماننے میں بظاہر نقصان ہو یا ماننا مشکل نظر آتا ہو چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مورد بنا دیتا ہے شریعت کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے اور خدا کے احکام پر نہ چلنے کی وجہ سے ہی یہودی قوم مغضوب سیھم بنی۔مسلمانوں کے لئے اور خصوصاً ہم احمدیوں کیلئے بڑا ہی