خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 498 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 498

498 سیکھنے کیلئے آنا ناممکن ہے۔گھر کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ملازمین کو چھٹی نہیں ملتی۔صحت ٹھیک نہیں ہوتی۔غرض بہت سے عذر ہو سکتے ہیں۔ان الفاظ کے بین السطور یہ بھی اشارہ ہے کہ دین کا علم سیکھنا اتنا ضروری ہے کہ اگر سب کا اکٹھا آنا ممکن ہوتا تو سب کو ہی آنا چاہئے تھا۔لیکن چونکہ یہ مکن نہیں۔انسان کے ساتھ بہت سے عذر لگے ہوئے ہیں اس لئے ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی جماعت میں سے ایک گروہ نکل پڑتا۔نَفَر کے معنے اِسْرَعَ اِلَیہ کے ہیں یعنی تیزی سے شوق سے کسی کی طرف جانا۔جس میں خواہش اور شوق پایا جاتا ہو۔زبر دستی اور مجبوری سے وہ دین سیکھنے کیلئے نہ آئیں بلکہ ان کو انتظار ہو کہ کب دین کی تعلیم کا مرکز میں انتظام کیا جائے اور کب ہم پہنچیں اور جا کر علم دین سیکھیں۔قرآن مجید نے آنے والوں کیلئے ”طائِفَة‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔طَائِفَة کے معنے لغت میں اَلْجَمَاعَةُ مِنَ النَّاسِ کے ہیں اور جماعت کا لفظ کم سے کم تین کے عدد پر بولا جاتا ہے۔اس ارشاد باری تعالیٰ کی مطابق ہر شہر، قصبہ اور گاؤں سے کم از کم تین طالبات کو تو ضرور آنا چاہئے۔تمام پاکستان کی صدہا جماعتوں سے صرف 124 طالبات کا آنا اور صرف 27 مقامات سے آنا بے حسی اور قرآن مجید سے عدم دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔مرکز میں جماعتوں کے آنے کی دو اہم غرضوں کو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔پہلی یہ کہ ان کے آنے کی غرض تفقہ فی الدین ہے۔تفقہ کے معنے لغت میں فھم کے ہیں یعنی کسی چیز کو اس طرح سیکھنا کہ مکمل طور پر وہ سمجھ آ جائے۔تفقہ باب تفعل سے ہے جسمیں تکلف کے معنے ہیں یعنی کوشش اور محنت سے علم حاصل کرنا اور اس کی باریکیاں سمجھنا۔پس تفقہ فی الدین کے معنے یہ ہوں گے کہ دین کا علم اس طرح محنت اور دل لگا کر سیکھے کہ پوری طرح ہر مسئلہ سمجھ میں آجائے۔اگر دین کے لفظ کے مختلف معنی بیان کئے جائیں تو اپنی ذات میں یہ ایک بہت لمبا مضمون بن جائے گا۔حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے وقتا فوقتا ان الدین عندالله الاسلام کی جو لطیف تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں بیان فرمائی ہے وہ آپ سب نے سنی ہے اسے یادرکھیں اور اس کی روشنی میں دین کا علم حاصل کرنے کی اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔دوسری غرض مرکز میں جماعتوں کے آنے کی قرآن مجید نے یہ بیان فرمائی ہے کہ مرکز میں رہ کر علم دین سیکھ کر جب وہ اپنے شہروں میں واپس جائیں تو پیچھے رہنے والوں کو ہوشیار کر سکیں کہ آپ لوگ قرآن مجید پڑھیں اور اس کی تعلیم پر عمل کریں۔پس آپ کا فرض ہے کہ علم دین کی جو باریکیاں اور مسائل آپ نے یہاں سیکھے ہیں وہ اپنے شہر یا گاؤں یا قصبہ میں واپس جا کر وہاں کی رہنے والیوں کو سکھائیں۔قرآن مجید نے جو اوامر اور منہیات بیان فرمائے ہیں وہ تفصیلاً بتا ئیں۔سکھائیں تا جو بدعتوں اور جہالت