خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 497 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 497

497 خطاب طالبات فضل عمر تعلیم القرآن کلاس مورخہ 30 روفا (جولائی 1968ء) کو طالبات فضل عمر تعلیم القرآن کلاس کی جو الوداعی تقریب ربوہ میں منعقد ہوئی اس میں حضرت سیدہ ام متین مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے جو خطاب فرمایا تھا وہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (سورة الانعام : 156) الْحَمْدُ لِله ثُمَّ الْحَمْدُ لِله بلکه آن فضل عمر تعلیم القرآن کلاس اختتام پذیر ہورہی ہے۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ سب کو اس میں شامل ہونے کی توفیق عطاء فرمائی 1965ء اور 1966ء کے مقابلہ میں گذشتہ سال طالبات کی تعداد میں نمایاں زیادتی ہوئی تھی لیکن اس سال گذشتہ سال کی نسبت باہر سے آنے والی طالبات کی تعدا کم رہی ہے۔کل 124 طالبات باہر سے آئیں جن میں سے بارہ طالبات بعض مجبوریوں کی بناء پر واپس چلی گئیں۔پانچ طالبات نے بیماری کے سبب امتحان نہ دیا۔کل 105 طالبات نے امتحان میں شرکت کی۔طالبات کی تعداد بھی کم رہی اور جن مقامات سے وہ آئیں ان کی تعداد بھی گذشتہ سال سے کم رہی۔گذشتہ سال 32 جگہوں سے طالبات آئی تھیں اور امسال 27 مقامات سے۔اس سے ظاہر ہے کہ اس سال بجنات کی عہدہ داروں نے اپنی ذمہ داری کو صیح طور پر ادا نہیں کیا۔قرآن مجید کی تعلیم کا یہ انتظام حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے مطابق آپ کی خصوصی نگرانی میں کیا جاتا ہے۔اور اس لئے کیا جاتا ہے کہ مرد اور عورتیں مرکز میں آکر قرآن مجید کی تعلیم حاصل کریں۔اور جا کر اپنی اپنی جماعت میں پڑھا سکیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مرکز میں آکر قرآن مجید پڑھنے کا ارشاد قرآن مجید کے اس حکم کے مطابق ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔وَمَا كَانَ المُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (سورة التوبه : 122) (ترجمہ) اور مومنوں کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ سب کے سب اکٹھے ہو کر تعلیم دین کیلئے نکل پڑیں پس کیوں نہ ہوا کہ ان کی جماعت میں سے ایک گروہ نکل پڑتا تا کہ وہ دین پوری طرح سیکھتے اور اپنی قوم کو واپس لوٹ کر بے دینی سے ہوشیار کرتے تا کہ وہ گمراہی سے ڈرنے لگیں۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کسی شہر یا قصبہ یا گاؤں سے ایک وقت میں سارے مومنوں کا دین