خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 487 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 487

487 توڑیں۔قرآن مجید کا پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔قرآن نہ آتا ہوگا تو بیسیوں احکام جہالت اور لاعلمی کے باعث آپ تو ڑتی رہیں گی۔پس قرآن پڑھیں۔ترجمہ سیکھیں، اپنی اولادوں کو پڑھوائیں۔کیونکہ اللہ تعالی تک پہنچنے کے لئے تمام دروازے بند ہیں مگر ایک دروازہ جو فرقان مجید نے کھولا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض بھی اسلام کو پھر سے زندہ کرنا اور اسلامی شریعت کا قیام تھا۔یہی کام آپ کے خلفاء کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔قرآن مجید پڑھنے اور پڑھانے کی حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بہت ہی تاکید فرمائی ہے تا ہماری جماعت کا ہر مرد عورت اور بچہ احکام الہی سے پورے طور پر واقف ہو۔اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ سے محبت پیدا ہو اور اس کا حقیقی عبد بن سکے۔پردہ کا حکم:۔قرآن مجید کے ہر حکم میں مرد اور عورتیں یکساں مخاطب ہیں۔لیکن بعض خصوصی مسائل ہیں جو صرف عورتوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سے ایک اہم حکم پردہ کا ہے۔مغربیت کی اندھی تقلید کے نتیجہ میں ہماری نئی نسل کا ایک حصہ مذہب سے بیگانہ ہو کر پردہ کو چھوڑنے کی طرف مائل ہو رہا ہے۔اس ذہنیت کے ساتھ کہ پردہ ان کی تعلیم اور ترقی میں روک ہے پردہ کرتے ہوئے وہ دنیا کی ترقی کی دوڑ میں حصہ نہیں لے سکتیں اور ان کو یقین ہے کہ آئندہ دس پندرہ یا میں سال کے بعد پردہ ختم ہو جائے گا۔اس مختصر وقت میں میں پردہ کی تفصیل میں نہیں جاسکتی مجھے صرف یہ بتانا ہے کہ پردہ کا حکم قرآن مجید میں ہے۔ازواج مطہرات اور صحابیات جنہوں نے براہ راست آنحضرت ﷺ سے قرآن سیکھا اس پر عمل کیا انہوں نے پردہ کیا چونکہ مسلمان قرآن پر عمل کرنا چھوڑ کر افراط و تفریط کی راہیں اختیار کر بیٹھے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے پھر اپنے نبی کو بھیجا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کے سامنے یہی مقصد اپنی بعثت کا بیان فرمایا کہ قرآن کی تعلیم کو دنیا میں رائج کرنے کے لئے آپ تشریف لائے ہیں اور یہی مقصد آپ کی جماعت کا مقصد ہے۔جو احمدی عورت یا احمدی بچی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرتی ہے لیکن بے پردگی اختیار کرتی ہے وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ قرآن مجید کے احکام میں سے کسی کا بھی توڑنا اس کے نزدیک جائز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نافرمانی جائز ہے۔کیا وہ احمدی کہلانے کی مستحق ہے؟ بیعت کے وقت اقرار کرنا کہ جو آپ نیک کام بتائیں گے اس پر عمل کروں گی مگر عمل سراسر اس کے خلاف۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو کم اور عدل تھے اس زمانہ کے لئے آپ نے پردہ کا ایک ضروری حکم قرار دیا