خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 488
488 فرماتے ہیں:۔انہی بدنتائج کو روکنے کے لئے شارع اسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ان نا پاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیج الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفانہ زندگی بسر کی جارہی ہے۔اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مرد و عورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس کے باعث یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خود کشیاں دیکھیں۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 22) حضرت مصلح موعود نے 1958ء میں بے پردگی کے خلاف ایک خطبہ دیتے ہوئے بے پردہ خواتین سے جن سخت الفاظ میں اظہار تنف فرمایا تھا ان الفاظ کی موجودگی میں تعجب ہے کوئی احمدی خاتون بے پردگی اختیار کرنے کی جرات ہی کیسے کرتی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ 1965ء کے موقع پر عورتوں سے خطاب فرماتے ہوئے پردہ کرنے کے متعلق بھی تاکید فرمائی تھی۔آپ فرماتے ہیں:۔میں اس پر وہ کے فوائد یا بے پردگی کے نقصانات کی تفاصیل میں نہیں جانا چاہتا یہ ایک مستقل مضمون ہے جس کے متعلق میں بھی کچھ کہہ چکا ہوں اور دوستوں نے بھی اس کے متعلق کچھ کہا ہے۔حضرت مصلح موعود نے اس کے متعلق بہت سے نصائح فرمائی ہیں لیکن میں پورے زور کے ساتھ کہتا ہوں کہ شریعت اسلامیہ کا ہر حکم قابل عمل ہے۔قرآن کریم ایک قابل عمل کتاب ہے جو خدا تعالیٰ نے آسمان سے ہمارے لئے نازل فرمائی ہے ان احکامات کا فلسفہ کیا ہے ان کے فوائد کیا ہیں ان کے چھورنے کے نقصانات کیا ہیں یہ اپنے اپنے رنگ میں مفید اور ضروری چیزیں ہیں لیکن ہمارے لئے پہلی بات جو ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم دین العجائز اختیار کریں یعنی یہ عہد کر لیں کہ چاہے ہمیں کوئی بات سمجھ آئے یا نہ آئے ہمیں اس کے فوائد کا علم ہو یا نہ ہو ہمیں اس کے نہ ماننے کے نقصانات بتائے گئے ہوں یا نہ بتائے گئے ہوں ہم وہی کریں گے جو خدا تعالیٰ ہمیں کہے گا اور ہم اسی طرح کریں گے جس طرح خدا تعالیٰ ہمیں کرنے کے لئے کہے گا جب تک یہ ذہنیت پیدا نہیں ہوگی آپ قرآن کریم کی برکات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔(مصباح مارچ 1966ء) رہا یہ سوال کہ آہستہ آہستہ پر دہ بالکل ختم ہو جائے گا یہ نتیجہ صرف ایسے سوچنے والیوں کے اپنے خیالات کا پر تو ہے۔یہ صحیح ہے کہ جب ایک بُرائی پھیلتی ہے تو ایک حد تک ضرور پھیلتی چلی جاتی ہے۔مسلمان عورتوں