خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page v of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page v

دیباچه چھوٹی آپا کے نام سے معروف حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کے گھر 1918ء میں پیدا ہوئیں حضرت ڈاکٹر صاحب دلی کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ میر درد کی اولاد تھے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کے فرزند ارجمند اور اماں جان حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ حرم سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بھائی تھے آپ ایک عارف باللہ، صوفی منش، صاف دل اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک خاص راز و نیاز کا تعلق رکھنے والے بزرگ تھے اپنے ایک مضمون بعنوان ”صنم خانہ عشق میں ایک رات میں رقمطراز ہیں:۔آدھی رات تو ہو چکی تھی میں چوکھٹ پر سر رکھے پڑا تھا اور اٹھنے کا خواہش مند تھا کہ اٹھنے کی اجازت لی اور یوں محسوس ہوا کہ کوئی پوچھتا ہے کیا چاہتا ہے میں نے عرض کیا۔اے سوئے در رو خداوند درگاه من گنا ہم بخش بخش خویش عالم مرا عزیز توئی راہم از تو نیز توئی و آنچه می خواہم ” مفت؟“ میں نے کہا میں کیا پیش کر سکتا ہوں جو کچھ ہے وہ آپکا ہی دیا ہوا ہے۔” جان اور ایک چیز سب سے عزیز میں نے ویسی فجر کی نماز ساری عمر نہیں پڑھی اُف وہ خوشی وہ عجیب اور نئی قسم کی خوشی۔ز ہے نصیب۔وہ اور مجھ سے میری جان کا مطالبہ کریں وہ اور مجھ سے ایک اور عزیز چیز کی نذر طلب کریں“ چنانچہ اٹھتے ہی آپ نے پہلے دو بکرے صدقہ کیے پھر اپنا ذاتی مکان انجمن کے نام کر دیا آپ فرماتے ہیں۔ان باتوں سے فارغ ہو کر گھر گیا تو ایک اور عزیز چیز نظر آئی جس کا نام مریم صدیقہ تھا۔میں نے اُسے اٹھا کر کہا کہ اس کا نام ہی شاہد ہے میرا پہلے سے بھی ارادہ تھا اب اسے بھی قبول فرمائیے“ یہ واقعہ 1921ء کا ہے جب حضرت چھوٹی آپا کی عمر تقریباً تین سال تھی۔حضرت سیدہ چھوٹی آپا فرماتی ہیں کہ میری شادی پر ابا نے میری نوٹ بک میں لکھ کر دیا:۔مریم صدیقہ جب تم پیدا ہوئیں تو میں نے تمہارا نام مریم اس نیت سے رکھا تھا کہ تم کو خدا تعالیٰ اور اس کے سلسلہ کے لئے وقف کر دوں اسی وجہ سے تمہارا دوسرا نام ”نذرالہی بھی تھا۔“