خطابات مریم (جلد اوّل) — Page vi
30 ستمبر 1935ء کو آپ حضرت مصلح موعود کے عقد میں آئیں اور آپ کی تربیت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔شادی کے بعد آپ نے ایف اے سے ایم اے عربی تک تعلیم حاصل کی اس کے علاوہ دینیات کلاس اور علیمیہ کے امتحان بھی پاس کئے۔عربی زبان اور صرف و نحو اور قرآن مجید کا ترجمہ وتفسیر آپ نے حضرت مصلح موعود مرقدہ سے سیکھے۔بعد ازاں ساری زندگی آپ نے قرآن کریم پڑھانے کے لئے وقف کر دی۔آپ نے 1942ء میں لجنہ کے کام کا آغاز حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ کے ساتھ بطور جنرل سیکرٹری کیا۔حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ کی وفات کے بعد صدر لجنہ اماءاللہ کے عہدہ پر فائز ہوئیں اور 1999 ء تک مسلسل قابل قدر تاریخ ساز خدمت کی توفیق پائی۔آپ کے دور صدارت کے چند اہم کاموں میں نصرت انڈسٹریل ہوم کا قیام ربوہ میں فضل عمر ماڈل سکول کا اجراء جامعہ نصرت سائنس بلاک کا آغاز علم، دوستی کی مثال ہیں آپ جامعہ نصرت برائے خواتین میں ڈائر یکٹریس کے عہدہ پر بھی فائز رہیں تاری لجنہ کی پہلی 5 جلدیں بھی آپ کی محنت اور کاوش کا زندہ ثبوت ہیں آپ بہترین انتظامی صلاحیتوں کی مالک تھیں۔حسن اخلاق اور اعلیٰ کردار کے لحاظ سے آپ احمدی خواتین کے لئے قابل نمونہ تھیں۔آپ تقوی شعار، خدا ترس، با اخلاق ، سادہ مزاج، زیرک ، معاملہ فہم اور عاشق قرآن بزرگ تھیں۔خلافت کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا رنگ آپ کی ذات میں جھلکتا ہے آپ کی ذات کی ایک نمایاں خوبی جو بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے آپ کی بے نفس تھی باوجود اپنی طبیعت کی خرابی کے ہر ایک کی شادی غمی میں شریک ہوتیں۔ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک اور شفقت آپ کا طرہ امتیاز تھا۔خدا تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ اللہ ہمیشہ آپ کی روح پر اپنی برکتیں اور رحمتیں نازل فرماتار ہے۔آمین۔کا سرمہ تمہاری شرم زینت شفیق شفیق سی و حیا مسکان تمہاری آنکھ تمہارے چہرے کی تمہاری ذات کی خوبی تمہاری ہے نفسی جھومر ނ ہر قدم اُٹھا تمہارے ماتھے کا ہو کس طرح تمہارا خدا کرے کہ وہاں بھی تم اُن کے ساتھ تمہارا نام ہے منسوب جن کے نام کے ساتھ ہے دین کا عرفان اطاعت گزاریوں کا شمار فقط امام کے ساتھ رہو