خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 463
463 افتتاحی خطاب بر موقع سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 20 اکتوبر 1967ء سی سال لجنہ اماءاللہ کی تاریخ میں بلکہ احمدیت کی تاریخ میں بھی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس سال حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے مسجد نصرت جہاں کا افتتاح اپنے دست مبارک سے کرنے کیلئے اور مغربی مادہ پرست اقوام کو جھنجھوڑنے کیلئے تا وہ اپنے زندہ خدا سے تعلق پیدا کریں۔یورپ و انگلستان کا سفر اختیار فرمایا اور مسجد نصرت جہاں کا افتتاح اس اعلان کے ساتھ فرمایا:۔”ہماری بہنوں کو مبارک صد مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حقیر پیشکش اور قربانیوں کو قبول فرمایا اور یورپین ممالک میں سے ایک اور ملک میں خانہ خدا تعمیر ہوکر اسلام کے پھیلانے کا موجب بنا۔“ مسجد نصرت جہاں کئی لحاظ سے بڑی اہمیتوں کی حامل ہے۔اس کا نام آنے والی نسلوں کے دلوں میں اور اُن لوگوں کے دلوں میں جو اسلام میں داخل ہوں گے۔ہر وقت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کی یاد کو تازہ رکھے گا۔ہاں! وہ پاک وجود جس کو اللہ تعالیٰ نے تیری نعمت قرار دیا اور جس کو اللہ تعالیٰ نے میری خدیجہ کے الفاظ سے پکارا۔وہ وجود جو مسیح آخر الزمان کے ساتھ ازل سے وابستہ ہو چکا تھا۔جس کی بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال قبل دی تھی۔اُس مقدس وجود کی یا مسجد کے نام کے ساتھ ہمیشہ ہی دلوں کو گدگداتی رہے گی۔اور آپ کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین آنے والی نسلوں کی مستورات کو کرتی رہے گی۔جو زبان حال سے مستورات کو یہ سبق دیتی رہے گی کہ کوئی ضائع نہیں ہوتا جو تیرا طالب ہے کوئی رسوا نہیں ہوتا جو ہے جو یاں تیرا آسمان پر سے فرشتے بھی مدد کرتے ہیں کوئی ہو جائے اگر بندہ فرماں تیرا جس نے دل تجھ کو دیا ہوگیا سب کچھ اسکا ثناء کرتے ہیں جب ہووے ثناخواں تیرا دوسری بڑی اہمیت اس مسجد کو یہ حاصل ہے کہ یہ ہمیشہ حضرت مصلح موعود کے مبارک دور کی یاد کو احمدی