خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 29 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 29

29 کے مطابق کسی صورت میں بھی نِسَاءِ الْمُؤمِنِین کہلانے کی مستحق قرار نہیں پاسکتیں۔میری بہنو! اللہ تعالیٰ کا آپ پر کتنا فضل ہے کہ اس نے آپ کو مسلمان گھروں میں پیدا کیا۔مسلمانوں کی بیویاں اور بیٹیاں بنایا۔لیکن آپ ایک قرآنی حکم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو مومنوں کی بیویاں نہیں کہلاسکتیں کیونکہ مومنین کی بیویوں کے لئے تو خدا اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کے طور پر لازم ہے کہ وہ پردہ کریں۔اسلام نے اگر عورتوں کو مردوں میں خلا ملا کرنے سے باز رہنے کا حکم دیا ہے تو ان کو ایسے اعلیٰ حقوق بھی عطا فرمائے ہیں جو باوجود تہذیب و تمدن کے انتہائی کمال تک پہنچنے کے ابھی تک مغربی ممالک کی عورتوں کو حاصل نہیں اور جن کو مغربی ممالک کی خواتین باوجود اپنے پر زور مطالبات کے آج بھی پوری طرح حاصل نہیں کر سکیں۔اگر یہی سمجھ لیا جائے کہ پر وہ ایک قید ہے تو یہ حقوق اس قید کا ایسا نعم البدل ہیں جن پر ہزار آزادیاں قربان۔اور اگر وہ حقوق صحیح طور پر ادا کئے جائیں تو عورت کو کبھی کوئی تکلیف جسمانی یا روحانی نہیں ہو سکتی۔مغرب کی عورت جس کی تقلید آج مسلمان عورت بھی کرنے کی کوشش کر رہی ہے مرد کے دوش بدوش ہر محکمہ میں نظر آ رہی ہے۔لیکن آج مغرب کی عورت کی ظاہری ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی انحطاط اور تنزل جو ہو رہا ہے وہ روز روشن کی طرح نظر آرہا ہے جس کی وجہ سے مغرب کی دنیائے تمدن میں ایک ہل چل پڑ چکی ہے جس پر ان ممالک کے بڑے بڑے مصلحین غور کر رہے ہیں اور افسوس کرتے ہیں کہ کیوں صنف نازک کو مدنی زندگی میں یہ مرتبہ دیا گیا۔جس کی وجہ سے وہ ہر کام میں آزادی سے حصہ لیتی نظر آتی ہے۔انشاء اللہ وہ وقت آنے والا ہے۔جب دنیا اسلام کے لائے ہوئے اصولوں کے سامنے سر جھکا دے گی۔کیونکہ وہی فطرت کے عین مطابق ہیں۔مسلمان عورتوں کے فرائض : مسلمان عورتوں کے فرائض کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں توجہ دلائی ہے۔وَمِنْ ايتةٍ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَالِكَ لَايَتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ - (الروم :22) عورت اپنے شوہر کے لئے تسکین کا باعث ہو۔بچوں کی تربیت اور پرورش اعلیٰ درجہ کی کرے گھر کو سارے خاندان کے لئے راحت کدہ بنائے۔آپ غور کریں کیا یہ ممکن ہے کہ عورت بے پردہ ہو۔دفتروں میں ملازمتوں کے سلسلہ میں دھکے کھاتی ہو۔اور وہ اپنے مذکورہ بالا فرائض کو صحیح رنگ میں ادا کر سکے؟ مردوں کے ساتھ آزادانہ خلاملا کے ساتھ وہ اس معیار پر کیسے پوری اتر سکتی ہے جو اسلام اس کے لئے مقرر کرتا ہے۔