خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 28
28 ہے حکم تو ہے لیکن وہ ایک عارضی حکم تھا۔جو صرف اس زمانہ کے لئے تھا یا آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کے لئے تھا۔تیسرا طبقہ کہتا ہے کہ پردہ سے مراد یہ نہیں منہ ڈھانپو بلکہ یہ کہ صرف جسم ڈھانپ لویا مردوں سے خلا ملا نہ کرو۔وہ ایک واضح حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھی یہ سمجھ رہی ہوتی ہیں کہ ہم نے خلاف ورزی نہیں کی اور کوئی گناہ نہیں کیا۔قرآن مجید میں پردہ کا حکم پردہ کا حکم قرآن مجید میں ان آیات میں نازل ہوا تھا۔يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لَازْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَالِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا - (الاحزاب:60) ترجمہ:۔اے نبی ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنوں کی بیویوں سے کہہ دے کہ (جب وہ باہر نکلیں ) اپنی بڑی چادروں کو سروں سے گھسیٹ کر اپنے سینوں تک لے آیا کریں۔یہ امر اس بات کو ممکن بنا دیتا ہے کہ پہچانی جائیں اور ان کو تکلیف نہ دی جائے اور اللہ تعالی بڑا بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پردہ کا حکم ان آیات میں اس بنا پر نازل ہوا کہ مردوں نے عورتوں کو اذیت پہنچائی اور شرارتیں کیں۔یہ حالت اب بھی اسی طرح قائم ہے اور جب تک دنیا میں ان دونوں جنسوں کا وجود ہے قائم رہے گی۔کہا جا سکتا ہے کہ اب وہ زمانہ نہیں کہ عورتوں کو کوئی ایذا دے لیکن ایڈا کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں مکر وفریب اور عورتوں کو دھوکا دے کر ایذا پہنچائی جاتی ہے اور اس ایڈا سے بڑھ کر کون سی ایذا ہوگی کہ ایک عورت کی عزت پر حرف آ جائے اور اس کی تمام زندگی خراب ہو جائے پھر یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اب وہ زمانہ نہیں کہ عورتوں کو کوئی ایذا دے سکے۔اخبارات کا مطالعہ کر نیوالے جانتے ہیں کہ شاید ہی کوئی دن ناغہ ہوتا ہوگا۔جس دن اس قسم کی کوئی خبر نہ ہو جس میں موجودہ بے راہ روی اختیار کرنے والی عورت کا کسی کی ہوا و ہوس کا شکار بن جانے کا ذکر نہ ہو۔ظاہری ایڈا کو قانون اور حکومت روک سکتی ہے۔لیکن کسی عورت کی عزت پر حرف آنے کو صرف اخلاق کا قانون ہی روک سکتا ہے۔جب ان قوانین میں کوئی ایسی دفعہ نہ ہو جس سے کلی طور پر عورت کی عزت محفوظ رہ سکے تو پردہ کے سوا اور کون سا ذریعہ ہے اور پردہ بھی ویسا ہو جیسا کہ امہات المومنین یا صحابیات کیا کرتی تھیں اور امہات المومنین اور صحابیات کے نقش قدم پر چلنا ہی آج بھی ہر مسلمان عورت اور لڑکی کا فرض ہے یہ کہنا بھی غلط ہے کہ پردہ صرف ازواج مطہرات کے لئے تھا قرآن مجید دائمی شریعت ہے اور اس کا ہر حکم ہر زمانہ کے لئے ہے مذکورہ بالا آیات کے الفاظ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِين صاف بتاتے ہیں کہ ہر مسلمان اور مومن عورت کے لئے پردہ کا حکم تھا۔جو بہنیں پردہ ترک کرتی ہیں وہ قرآن کے ان الفاظ