خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 30 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 30

30 یہ ایک بدیہی بات ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے نوع انسان کو دو اصناف میں پیدا کیا تو خود یہ تقسیم اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں کے فرائض جدا اور دونوں کا میدان عمل الگ الگ ہے اور اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ عورت اپنے میدان عمل سے باہر نہ جائے اور یہی پردہ کی غرض ہے۔آنحضرت ﷺ کی ایک پیشگوئی : موجودہ زمانہ کی بے پردگی اور ایسا لباس پہننے کے متعلق جو قریب ننگا لباس ہے آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی بھی ہے آپ فرماتے ہیں۔نِسَاء كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيَّلَاتٌ مَائِلَاتٌ لَا يَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ (مسلم کتاب الباس والزينة ) کہ آخری زمانہ میں ایسی عورتیں ہوں گی جو بظاہر لباس پہنیں گی مگر فی الحقیقت عریاں ہوں گی۔لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے والی ہوں گی۔اور خود ان کی طرف مائل ہونے والی ہوں گی۔ایسی عورتوں کے متعلق آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہماری مستورات کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اس حدیث کو جو اس زمانہ کے متعلق آنحضرت نے آج سے چودہ سو سال قبل بیان فرمائی تھی اور جس میں موجودہ زمانہ کی عورتوں کا صحیح نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے جو اسلام کی صداقت اور آنحضرت ﷺ کی صداقت کی ایک بھاری دلیل ہے اپنے سامنے رکھیں اور جس انجام کی طرف اس حدیث میں توجہ دلائی گئی ہے اس سے بچیں۔اللہ تعالیٰ ہی ان کو سمجھ اور عقل عطا فرمائے کہ وہ اسلام کے حکموں پر چلیں۔ان کے دلوں میں مغرب کی اقتد ا سے نفرت ہو اسلام کے احکام پر ہی چلنا وہ فخر سمجھیں۔جس میں ہماری نجات ہے۔ہماری اولادوں کی نجات ہے اور ساری دنیا کے لئے نجات ہے۔کیا چهره چھپانا ضروری نھیں ؟ ایک طبقہ جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کر چکی ہوں یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اسلام میں پردہ تو ہے۔لیکن چہرہ کا چھپانا ضروری نہیں۔یہ ایک غلط خیال اور عقیدہ ہے جو ان کے دلوں میں جم گیا ہے اور جس کی نہ قرآن تصدیق کرتا ہے نہ حدیث نہ صحابیات کے عمل سے اس عقیدہ کی تصدیق ہوتی ہے۔قرآن مجید صاف صاف فرماتا ہے لا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ (النور 32) وه زینوں کو ظاہر نہ کریں سب سے زیادہ زینت کی چیز عورت کا چہرہ ہے۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ چہرہ چھپانے کا حکم نہیں۔وہ آخر پھر زینت کس چیز کو قرار دیتے ہیں۔جس کے چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔اسی سلسلہ میں مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ جو بہنیں پر وہ تو کرتی ہیں لیکن اپنا برقعہ ایسا سلواتی ہیں جن سے ان کے جسم کا حصہ نمایاں نظر آتا ہے۔وہ بھی اسلامی پردہ پر عمل نہیں کرتیں۔پردہ خواہ چادر سے کیا جائے یا برقعہ سے