خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 445 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 445

445 مسلمانوں کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ان کا امام ہو۔اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے وہ ترقی کریں۔جب تک مسلمانوں میں خلافت باقی رہی مسلمان ترقی کرتے چلے گئے۔جب خلافت کا دامن چھوڑ اتباہ ہو گئے ذلیل ہو گئے اور وہ ادباران پر آیا جس کی تاریخ کا صفحہ صفحہ گواہی دے رہا ہے۔اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا کو تباہی سے بچانے کے لئے بھیجا اور آپ کے ذریعہ احمدیہ جماعت کو انعام خلافت سے سرفراز فرمایا لیکن ساته هی فرماديا۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأرْضِ (النور: (56) کہ یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ انعام خلافت کا مشروط ہے کہ تمہارے ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ۔یہاں ایمان سے مراد ایمان با الخلافت ہے۔یعنی خلافت کے قیام کو دل و جان سے ماننا اور اس عقیدہ پر قائم رہنا کہ خلافت کا قیام ہماری ترقی۔احمدیت کے غلبہ اور اسلام کی بقا کے لئے نہایت ضروری ہے۔اور اعمال صالح سے مراد وہ کام ہیں۔وہ قربانیاں ہیں وہ خدمت ہے جو خلافت کے مناسب شان ہو اور خلافت کی اطاعت میں کی جائے۔پس احمدی خواتین! خوش ہو اللہ تعالیٰ کے انعام سے کہ اس نے ہمیں اس انعام سے نوازا لیکن ڈرتے رہیں ہمارے دل ہر وقت اس ڈر سے کہ کوئی کام ایسا نہ ہو جائے کوئی گناہ ایسا نہ سرزد ہو جائے جو ہمیں من حیث القوم اللہ تعالیٰ کی نظروں سے گرا دے اسی لئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا تھا کہ تم اپنی نسلوں در نسلوں کو یہ سبق دیتے چلے جاؤ۔کہ ہم نے خلافت کے انعام کو اپنے میں قائم رکھنا ہے۔تا اسلام کا جھنڈا ہمیشہ بلند رہے پس میری بہنو! یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔احمدی خواتین پر کہ وہ خلافت کی اہمیت اور خلافت کی برکات سے آنے والی نسلوں کو واقف کراتی رہیں تا کہ احمدیت میں نسلاً بعد نسل ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو اپنے آپ کو اس انعام کا مستحق قرار دیتے ہوئے اسلام کے جھنڈے کو لہراتے رہیں۔آج جس بیت اللہ کا افتتاح ہو رہا ہے