خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 444 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 444

444 کرتا ہے اور زکوۃ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔یقیناً ایسے لوگ کامیابی کی طرف لے جائے جائیں گے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیت الذکر کے آبا در کھنے کے پانچ مگر بیان فرمائے ہیں۔(۱) اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان (۲) یوم آخرت پر ایمان۔یوم آخرت پر ایمان کا مطلب صرف اعتقادی ایمان نہیں بلکہ ہر وقت پیش نظر رکھے کہ ایک دن آنے والا ہے جب میرے اعمال کا محاسبہ ہوگا۔دنیا میں کسی کو دکھ نہ دوں۔تکلیف نہ پہنچاؤں۔اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ادا کروں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے بھی۔یہ وہ ضروری چیز ہے جس کا ذکر ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آخرت کو پیش نظر رکھنے سے انسان گناہوں سے محفوظ رہ سکتا ہے اور دنیا کی اصلاح و ہدایت کا باعث بن سکتا ہے۔اس نماز کی ادا ئیگی۔باوجود آخرت کو ہر وقت مد نظر رکھنے کے پھر جو کمزوریاں رہ جائیں گی ان کو نماز دور کر دے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنكبوت: 46) (۴) زکوة کا دینا یعنی حقوق العباد کی ادائیگی۔چندے دینا۔غرباء کا خیال۔ان کے جذبات کا خیال۔معاشرہ کے ہر رکن کا خیال وغیرہ (۵) خشیت الہی کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی خشیت طاری رہے۔وہ ذات غنی ہے۔ہم عمل کریں گے۔قربانیاں دیں گے مگر ساتھ اس کی عاجزی انکساری اور خشیت سے کبھی دل میں تکبر پیدا نہ ہو جائے۔ہر وقت تضرع اور عاجزی سے خدا کے حضور گڑ گڑاتے رہیں کہ تو ہی ہمیں ایسے عملوں کی توفیق عطا فرما جو تیرے فضل کو جذب کرنے والے ہوں۔ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ہدایت پانے والے ہوں گے۔اور پھر ھدی للعالمین بن سکیں گے اور مسجدوں کی تعمیر کی غرض کو پورا کرنے والے ہوں گے۔مساجد کے قیام کی ان اغراض کے علاوہ سب سے ضروری اور سب سے بڑی غرض یہ ہے کہ مسجد کی تعمیر ہر وقت انسانی ذہن کو یہ یاد دلاتی رہتی ہے کہ تمہارا ایک امام ہونا چاہئے۔اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى (البقرہ: 126) کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔امام کے بغیر نہ مسجدوں کی غرض پوری ہوتی ہے نہ جماعت کی۔جس طرح مساجد میں نماز پڑھانے کیلئے ایک امام کی ضرورت ہے نماز با جماعت اس کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی اسی طرح اسلام کی بقا کے لئے