خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 446
446 الحمد للہ کہ یہ افتتاح حضور 21 / جولائی کو فرما چکے ہیں ) اس بیت کی تعمیر کا فیصلہ ہماری بہنوں نے دسمبر 1964ء میں اس خوشی میں کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود کے بابرکت دور کو پچاس سال تک لمبا کر دیا تھا۔یہ ایک نذرانہ عقیدت تھا۔اپنے خدائے عزو جل کے حضور میں احمدی خواتین کا۔بے شک وہ وجود جس کے دور خلافت کے پچاس سال گذرنے پر ہم نے نذرانہ کی صورت میں پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا۔آج ہم میں نہیں اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر کے مطابق اپنے نفسی نقطہ آسمان تک اُٹھایا جا چکا ہے۔لیکن ہمارا خدا زندہ خدا ہے۔اس نے جماعت کو پھر ایک ہاتھ پر متحد کر دیا ہے اور اس کا فیصلہ ہے کہ کفر و اسلام کی اس آخری جنگ میں اسلام کی فتح ہو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسلام کے غلبہ کی خبر آج سے بہت عرصہ پہلے دی تھی اور اس غرض سے اس نے خلافت کا سلسلہ جاری فرمایا تا ایک جماعت اپنے امام کی قیادت میں خدا اور اس کے نام کو بلند رکھنے کے لئے ہر وقت قربانیاں دینے والی موجود رہے۔پس میری عزیز بہنو! بے شک ہم خوش ہیں کہ بیت اللہ جس کا وعدہ ہم نے کیا تھا تعمیر ہو چکی ہے لیکن یہ خوشی کی گھڑیاں ہمیں مزید قربانیوں کی طرف توجہ دلاتی ہیں اور ان کے لئے ہمیں ہر وقت اور ہر آن تیار رہنا چاہئے۔حقیقت تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطابق ہماری زندگیاں بھی ان صلوتی وسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین کی عملی تفسیر ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی ایسی قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی ہوں اپنی زندگیوں میں ہی ایک انقلاب عظیم دیکھ لیں اور إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أفْوَاجًا (النصر : 13,2) کا نظارہ ہماری آنکھیں دیکھیں۔رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔مصباح ستمبر 1967