خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 405 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 405

405 زندگیوں سے ان رسوم کو اور بد عادات کو یکسر اور یک قلم مٹادیں اور دنیا اور دنیا داروں کی پرواہ نہ کریں اور اپنے رب کی رضا کی پرواہ کریں۔المصابیح صفحہ 32 پھر 23 جون 1967ء کے خطبہ جمعہ میں آپ نے بڑے واضح الفاظ میں مستورات کو مخاطب کر کے فرمایا:۔میں ہر گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور ہر گھرانہ کو مخاطب کر کے بد رسوم کے خلاف اعلان جہاد کرتا ہوں اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا اور ہماری اصلاحی کوششوں کے باوجود اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہوگا وہ یہ یادر کھے کہ خدا اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی جماعت کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہے۔وہ اس طرح جماعت سے نکال کے باہر پھینک دیا جائے گا جس طرح دودھ سے لکھی۔پس قبل اس کے کہ خدا کا عذاب کسی قبری رنگ میں آپ پر وارد ہو یا اس کا قہر جماعتی نظام کی تعزیر کے رنگ میں آپ پر وارد ہو اپنی اصلاح کی فکر کرو اور خدا سے ڈرو اور اس دن کے عذاب سے بچو کہ جس دن کا ایک لحظہ کا عذاب بھی ساری عمر کی لذتوں کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے کہ اگر یہ لذتیں اور عمریں قربان کر دی جائیں اور انسان اس سے بچ سکے تو تب بھی وہ سودا مہنگا سودا نہیں سستا سودا ہے۔“ خطبات ناصر جلد اول ص 763 - خطبہ جمعہ 23 جون 1967ء پھر 1978ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک بار پھر جب بعض نقائص حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئے تو آپ نے عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔" کیا آپ آج مہدی موعود کو یہ کہیں گی کہ ہم آپ پر ایمان لائیں ہمیں اسلام کی روشنی ملی ہم اس کے نور سے منور ہوئے۔ہمارے سامنے اسلام کی حقیقت آگئی ہر قسم کے گردوغبار کو صاف کر کے بدعات کو دور کر کے لیکن پھر بھی ہم حقیقی اسلام چھوڑ کر بدعات سے چھٹی رہنا چاہتی ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ کوئی ایک بدعت بھی ایسی نہیں ہوگی اسلام کی تعلیم کے ساتھ چمٹی ہوئی (چھٹنے کا لفظ ہے فارسی میں ) کہ جس کو مہدی اکھیڑ کے پرے نہیں پھینک دے گا وہ خالص اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور ہر سنت کا احیاء کرے گا اور اس کو قائم کرے گا۔“ پھر اسی تقریر میں آپ نے فرمایا:۔ان دس سال میں (الجنہ اماءاللہ کا پروگرام میں یہ بنارہا ہوں جس کا آج اعلان کر رہا ہوں ) عالمگیر جماعت احمدیہ کی اجتماعی زندگی ہر پہلو کو ہرقسم کی بڑی یا چھوٹی بدعت سے پاک کیا جائے گا۔یا پھر علیحدہ ہو