خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 406 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 406

406 " جاؤ مسیح پاک کی اس پاک جماعت سے۔“ المصابیح صفحہ 349 350 پس ان بدعات اور رسومات کو دور کرنے کے لئے ہر لجنہ اماءاللہ کو خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ رسومات ہم کو سیدھی راہ سے دور رکھتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے شہر میں داخل ہونے سے روکتی ہیں۔اس لحاظ سے ہم پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ہر اس کام کو ترک کر دیں جس پر رسم کی اصطلاح کا اطلاق ہوتا ہے۔رسوم مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔-2 مذہب کی طرف منسوب ہونے والی رسوم شادی بیاہ سے متعلق رسوم 3۔وفات سے متعلق رسوم اور 4۔بچہ کی پیدائش کے متعلق رسوم مذهب کی طرف منسوب ھونے والی رسوم : مثلاً قبر پرستی ، قبروں پر عرس کرنا۔میلاد کے وقت کھڑے ہونا اور شیرینی تقسیم کرنا مختلف وظیفے بنالینا جن کا احادیث سے کوئی ثبوت نہ ملتا ہو۔نماز میں تو اللہ تعالیٰ سے دعا نہ مانگنی لیکن نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنی ختم قرآن - تعویذ گنڈے۔جھاڑ پھونک وغیرہ وہ رسومات ہیں جو مذہب کے نام پر کی جاتی ہیں حالانکہ اسلام سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔اسلام نام ہے تو حید کا توحید کے قیام کے لئے ہی اللہ تعالیٰ انبیاء مبعوث فرماتا ہے۔دنیا میں کامل توحید کا قیام آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ہوا اور آج آپ کے ہی نام لیوا قبروں پر جا کر خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر ان بزرگوں سے جن کی ساری عمریں توحید کے قیام میں گزریں دعائیں مانگتے اور ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔حالانکہ وہ بھول جاتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے تو فرمایا تھا کہ یہود و نصاریٰ پر لعنت ہو جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ اس شرک و بدعت سے تو بکلی پاک ہے لیکن پھر بھی ضرورت ہے کہ ان کے مردوزن اور بچوں کی زندگیاں توحید کے قیام اور شرک کے خلاف جہاد کرنے میں گزریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے الہاما حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کو فرمایا:۔خُذُوا التَّوْحِيدَ التَّوْحِيدَ يَا أَبْنَاءَ الْفَارِسِ ( تذکره ص: 197)