خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 404
404 حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی رسومات مٹانے کے متعلق تحریک حضرت خلیلہ اسبح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے جو تحریکات مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد جماعت اور خصوصاً احمدی مستورات کے سامنے رکھیں ان میں سے ایک تحریک جماعت سے رسومات کی بیخ کنی کرنا تھا۔آپ نے فرمایا تھا: پہلا امتحان اور آزمائش وہ احکام الہی یا تعلیم الہی ہے جو ایک نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آتا ہے اور جس تعلیم کے نتیجہ میں مومنوں کو کئی قسم کے مجاہدات کرنے پڑتے ہیں۔بعض دفعہ اپنے مالوں کو قربان کرنے سے اور بعض دفعہ اپنی عزتیں اور وجاہتیں اللہ تعالیٰ کے لئے نچھاور کرنے سے۔“ خطبہ جمعہ 8 اپریل 1966ء کی پھر آپ نے لجنہ اماءاللہ کے سالانہ اجتماع 1966ء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:۔حضرت مصلح موعود نے جماعت میں اور خصوصاً جماعت کی مستورات میں ایک مہم جاری کی تھی اور اس نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور وہ ہم یہ تھی کہ جماعت بد رسوم اور بُری عادتوں کو چھوڑ دے اور بے تکلف زندگی اور اسلامی زندگی گزارنے کی عادی ہو جائے۔ایک وقت جماعت پر ایسا آیا کہ حضور اپنی کوششوں میں کامیاب ہوئے اور جماعت بدرسموں سے اور بدرسموں کے بدنتائج سے محفوظ ہو گئی لیکن اب پھر جماعت کا ایک حصہ اس طرف سے غفلت برت رہا ہے خصوصاً وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے دنیوی مال یا دنیوی وجاہتیں عطا کی ہیں وہ بجائے اس کے کہ اپنے رب کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیوں کے دن گزارتے لوگوں کی خوشنودی کے حصول کی خاطر اور اس عزت کے لئے جو حقیقت میں ذلت سے بھی زیادہ ذلیل ہے اس دنیا کی عزت اور بد رسوم کی طرف ایک حد تک مائل ہورہے ہیں یہ بد رسوم شادی بیاہ کے موقع پر بھی کی جاتی ہیں اور موت فوت کے موقع پر بھی ہوتی ہیں ہمیں کلیہ ان کو چھوڑنا پڑے گا۔“ تقریر 22 اکتوبر 1966 ء المصابیح صفحہ 31) پھر آپ نے فرمایا:۔مختصراً میں بڑی تاکید کے ساتھ آپ میں سے ہر ایک کو کہتا ہوں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے تعلیمی لحاظ سے قرآن کریم کے اس اعلان کے ذریعہ ان رسوم کو یک قلم مٹا دیا ہے آپ اپنے گھروں سے اور اپنی