خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 24
24 اسلام میں پردہ کی اہمیت الله آنحضرت ﷺ کا ایک اہم ارشاد آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں مَن رأى مِنْكُمْ مُنكَرًا فَلْيُغَيِّرُهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيْمَانِ۔(مسلم کتاب الایمان باب بیان کون النهي عن المنكر من الایمان) تم میں سے جو شخص کوئی خلاف اخلاق یا خلاف دین بات دیکھے تو اسے چاہئے کہ اس بات کو اپنے ہاتھ سے بدل دے لیکن اگر اسے یہ طاقت حاصل نہ ہو تو اپنی زبان سے اس کے متعلق اصلاح کی کوشش کرے اور اگر اسے یہ طاقت بھی نہ ہوتو کم از کم اپنے دل میں ہی اسے بُراسمجھ کر دعا کے ذریعہ بہتری کی کوشش کرے لیکن یہ آخری صورت سب سے کمزور قسم کا ایمان ہے۔پردہ اسلامی احکام میں سے ایک اہم حکم ہے۔قرآن مجید میں صاف الفاظ میں پردے کا حکم ہے احادیث اور روایات سے صریحاً ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات اور صحابیات نے قرآن کے اس حکم کو سمجھا اور اس پر عمل فرمایا۔موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں سے بہت بھاری تعداد مستورات کی اس حکم پر مائل نظر نہیں آرہی۔اور ان کی تقلید میں بعض احمدی مستورات بھی اس رو میں بہتی نظر آ رہی ہیں کہ پردہ ضروری نہیں اس بُرائی کو جماعت کی مستورات میں سے دور کرنے کے لئے جو یقیناً خلاف دین و خلاف شریعت ہے۔میں آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کی تعمیل میں کہ تم میں سے جو شخص کوئی خلاف دین بات دیکھے تو اسے چاہئے کہ اس بات کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔لیکن اگر یہ طاقت حاصل نہ ہو تو اس کے متعلق اپنی زبان سے اصلاح کی کوشش کرے اور یہ بھی طاقت نہ ہو تو پھر اسے دل میں بُرا جانتے ہوئے اظہار نفرت ہی کرے۔بے پردگی کی موجودہ رو کے متعلق خواتین جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے اصلاح کی کوشش کروں گی۔ممکن ہے کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ اگر کوئی بے پردہ ہو تو تمہیں مضمون کیا ؟ اس اعتراض کو ہی دور کرنے کے لئے میں نے اپنے مضمون کی ابتدا ہی حدیث سے کی ہے۔بُرائیاں کس طرح پھیلتی ہیں : اس حدیث میں بھی یہی بیان کیا گیا ہے کہ بہت سی برائیاں صرف اس لئے پھیلتی ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور انکے ازالہ کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔اس طرح برائی کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے ایک شخص برائی