خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 25
25 کرتا ہے اسے روکا نہیں جاتا جس کے نمونہ سے اور بھی خراب ہو جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں سے بُرائی کا رعب کم ہونے لگتا ہے کسی سوسائٹی میں سے کسی برائی کو دور کرنے کے دو ہی طریق ہیں۔ایک یہ کہ کسی کو کوئی بُرا کام کرتے دیکھ کر سمجھانا اور نصیحت کرنا۔جو لوگ گندگی کی دلدل میں پوری طرح داخل نہیں ہوتے وہ نصیحت کے ذریعہ سنبھل جاتے ہیں۔دوسرا ذریعہ بدی سے بچنے کا وہ رعب ہے یا بدنامی کا ڈر ہے جو اس بُرائی کے متعلق کسی سوسائٹی میں پایا جاتا ہو ایک انسان اس لئے بھی بُرائی سے محفوظ رہتا ہے کہ اگر میں نے یہ بُر افعل کیا تو میری سوسائٹی اور میرے ملنے جلنے والے اسے بُرا افعل سمجھیں گے لیکن اگر اس کے بُرے فعل پر اس کے ملنے جلنے والے نفرت کا اظہار نہ کریں تو آہستہ آہستہ بُرائی کا رعب اس کے دل سے نکل جائے گا۔موجودہ زمانہ میں مغربی تہذیب کے زیر اثر ہمارے ہاں بھی یہ کمزوری پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے کہ ایک شخص خلاف اخلاق یا خلاف دین حرکت کرتا ہے مگر دیکھنے والے خاموش رہتے ہیں اس بُرائی کے سد باب کی کوشش نہیں کرتے محض اس خیال سے کہ ہم کیوں اپنے کسی عزیز دوست یا سہیلی سے جھگڑا مول لیں ہمیں ان کے ذاتی افعال سے کیا سروکار۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ جس بدی پر آج وہ اپنے کسی عزیز یا دوست کو نہیں روکتے کل کو وہ پھیلے گی اور ان کا گھر بھی اس کا شکار ہوگا جو آگ آج کسی اور کے گھر میں لگی ہے کل کو ان کے گھر میں بھی ضرور لگے گی۔بے پردگی کی موجودہ رو :۔بے پردگی کی رو جو اس وقت عورتوں میں پھیل رہی ہے وہ بھی آگ کی طرح ہے جو آہستہ آہستہ سلگ رہی ہے اگر آج ہمارے ہمسایہ کا گھر اس آگ سے جل رہا ہے اور اس آگ کو ہم نے روکنے اور بجھانے کی کوشش نہ کی تو کل یقیناً ہمارا گھر بھی یہ آگ بھسم کر دے گی۔پس میری بہنو! اس آگ کو بجھانے میں ہمارے ہاتھ بھی جلیں گے اور کپڑے بھی تعلقات بھی خراب ہوں گے۔دوستیاں بھی چھوڑنی پڑیں گی۔ملنے والیوں کے منہ بھی بنیں گے۔طعنے بھی سننے پڑیں گے۔لیکن کس کی خاطر ؟ اپنے پیدا کرنے والے رب کی خاطر جس نے ہمیں پیدا کیا۔دنیا کی نعمتوں سے نوازا اور بطور احسان پردہ کا واضح حکم قرآن مجید میں نازل فرمایا اور اپنے آقا محمد رسول اللہ ﷺ کی خاطر جو دنیا کے لئے اور خاص طور پر طبقہ نسواں کے لئے رحمت کا بادل بن کر آئے ہزاروں درود اور سلام اس محسن پر جس نے عورت کی ہستی کو جو دنیا بھر میں ایک ذلیل ہستی سمجھی جاتی تھی خاک سے پاک کیا۔اس کو سوسائٹی کا ایک قابل قدر اور قابل احترام وجود بنا دیا۔اس کو اتنا بلند مقام عطا فرمایا کہ ماں کی خدمت کو جنت قرار دے دیا گیا۔لیکن وہی عورت اعلیٰ اور ارفع مقام حاصل کر کے اپنے اسی محسن کے حکموں کی صریحاً خلاف ورزی کر رہی ہے جس