خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 386 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 386

386 کی کوشش کریں۔آپ نے فرمایا: عہدیداران ہر سال رپورٹیں بھیج دیتی ہیں۔مگر کبھی یہ نہیں لکھتیں کہ معاشرے میں کتنی برائیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔اب عہدیداران آئندہ سال کے لئے لائحہ عمل یہ رکھیں کہ دوران سال رسومات اور ہر قسم کی برائیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں تا کہ ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ بن جائے۔رسومات کے سلسلہ میں حضرت خلیفہ اسیح کا ارشاد یہ بھی ہے کہ ہر لجنہ اپنے اپنے علاقے کی بُری رسومات لکھ کر بھجوائے تاکہ ان کے تدارک کا سامان کیا جائے اور مربیان کو ان کے مطابق اصلاح کی ہدایت کی جائے۔دوسری شرط ہے کہ لا سرِ فن آپ نے فرمایا میں یہ نہیں کہتی کہ ہماری بہنیں چوری بھی کرتی ہیں مگر دیانتداری کا جو معیار ہونا چاہئے وہ نہیں ہے۔بچوں کی تربیت ایسی ہونی چاہئے کہ ایمانداری اور دیانتداری کا بہترین نمونہ ہوں اور دنیا دیکھ کر کہے کہ واقعی یہ لوگ صحیح اسلامی زندگی بسر کرتے ہیں۔وَلَا يَزْنِينَ آپ نے فرمایا۔بُرائی کی اشاعت اور دوسروں کی بُرائیوں کو گنوانا بھی زنا کا کام ہے۔کوئی آنکھ سے بُرائی دیکھے اور اس کا چرچا نہ کرے تو اس کا مطلب ہے کہ بُرائی پیدا ہوئی اور وہیں ختم ہو گئی۔بُرائی ختم کرنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ اگر کہیں بُرائی دیکھی جائے تو ذمہ دار شخص کو جا کر اطلاع دی جائے جو اس کے سدباب پر قدرت رکھتا ہو۔یہ نہیں کہ جگہ جگہ اس کا چرچا کیا جائے۔وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ فرمایا ایک شرط یہ ہے کہ عورتیں اپنی اولا دوں کو قتل نہیں کریں گی۔قتل سے مراد حقیقی قتل نہیں ہے۔قرآن کریم ایک مکمل کتاب ہے اور جب تک دنیا ر ہے گی اس کی تعلیم ہر زمانہ میں قابل عمل ہوگی۔قتل سے مراد اولادوں کی غلط تربیت ہے اور اس قتل سے مائیں اپنے بچوں میں اعلیٰ اخلاق اور قرآن مجید کی تعلیم پھیلانے کے ذریعہ بچ سکتی ہیں مگر آج کل سب کو تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے کی فکر ہے۔آپ نے فرمایا: مائیں میرے پاس آتی ہیں کہ بیٹی کو بی۔اے کروا دو۔ایف اے کروا دو۔مگر کبھی کسی ماں نے آکر یہ نہیں کہا کہ میری بیٹی کو قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے کا انتظام کروا دیں۔قرآن سے اس بے پرواہی کا حال یہ ہے کہ 300 میں صرف اٹھارہ بجنات ایسی ہیں جن کی 100 فیصدی ممبرات قرآن کریم پڑھنا جانتی ہوں۔اپنی اولاد کی زندگیوں کو بچائیے انہیں قرآن پڑھا کر۔صحابیات کی زندگیاں قابل رشک تھیں اس لئے کہ وہ قرآن کریم پڑھتی تھیں اور اس پر عمل کرتی تھیں۔آج پھر ہمیں وہی انعام ملا ہے