خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 385
385 اختتامی تقریر سالانہ اجتماع 1966ء آپ نے تشہد و تعوذ کے بعد سورہ ممتحنہ کی مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں : يأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِيْنَ بِبُهْتَانِ يُفْتَرِيْنَهُ بَيْنَ أَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوْفِ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ۔إِنَّ اللَّهَ غَفُوْرٌ رَّحِيمٌ (المُمتحنة: 13) آپ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مبعوث فرمایا۔اور مومن مردوں اور عورتوں کی جماعت قائم کرنے کا ارشاد فرمایا تو خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو اس جماعت میں داخل کرنے کی چند شرائط رکھیں۔ان آیات میں وہ شرائط بیان ہوئی ہیں فرمایا جو ان شرائط پر پوری اتریں ان کی بیعت لی جائے۔یہ شرائط جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ کی عورتوں کے لئے ہیں۔ہمارے لئے بھی ایک لائحہ عمل ہیں۔اگر ہم میں سے کوئی ممبران شرائط پر پوری نہیں اترتی تو اسے اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ کیا وہ حقیقت میں مسلمان کہلانے کی مستحق ہے۔آپ نے فرمایا سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ایک یقین کریں گی میں یہ نہیں کہتی کہ ہم میں سے بھی اس طرح شرک کرتی ہیں۔جیسے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں لوگ کرتے تھے۔اس زمانے کے شرک کی طرح کا شرک ہمارے زمانے میں نہیں۔لیکن وہ شرک جسے مٹانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے وہ شرک خفی ہے۔منہ سے اقرار کرتی ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں۔مگر طرح طرح کی رسومات میں گھری ہوئی ہیں۔دین اور آنحضرت ﷺ کی ہدایت کو چھوڑ کر دنیاوی عزت کی خاطر فضول قسم کی رسومات کی پابند ہیں۔اور یہ خوف کا مقام ہے ہمیں چاہئے کہ قرآن کریم کی تعلیمات کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔دنیا میں اگر ناک کٹتی ہے تو کٹ جائے مگر وہی کریں جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔اسلام سادگی اور کفایت شعاری سکھاتا ہے۔رسومات سے نفرت سکھاتا ہے۔ہمیں حضرت خلیفہ اسیح نے بھی اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ رسومات کو چھوڑے بغیر ہم کبھی اسلام کا جھنڈا بلند نہیں کر سکتے۔اسلامی تعلیم کا خلاصہ کلمہ طیبہ ہے۔اس کو منہ سے پڑھ لینا تو آسان ہے مگر عمل کرنا مشکل اس کا عملی پہلو یہی ہے کہ ہم خدا تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کے ہر حکم کو مانیں گی۔ہم پر فرض ہے کہ آپ کے اسوہ حسنہ پر چلنے