خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 387
387 اور ہم نے اس تعلیم کو پھیلاتا ہے۔انسان صحیح عمل تبھی کر سکتا ہے۔اگر علم ہو۔ہماری زندگیاں اسلامی تعلیم کے مطابق تبھی بن سکتی ہیں اگر ہم قرآن پڑھیں۔آپ نے فرمایا۔اب میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ بجنات کے کام میں اول دوم کا فیصلہ اس بنا پر کیا جائے گا۔اس نے قرآن مجید پڑھانے کے لئے کیا کوشش کی۔اور پچاس نمبر صرف قرآن مجید ناظرہ اور ترجمہ سکھانے کے ہوں گے۔باقی کام چاہے کتنا ہی اچھا ہوتا نوی حیثیت کا ہوگا۔وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَان۔آپ نے فرمایا یہ بات ثبوت ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ عالم الغیب۔۔۔۔۔۔ہے اسے پہلے ہی معلوم تھا کہ عورتوں میں یہ عادت ہوگی غیبت ایک کا دل دوسرے سے بُرا کر دیتی ہے۔جو کام ہم نے کرنا ہے وہ صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب ہم میں اتحاد ہو۔یہ کام صرف دلائل کے ہتھیاروں سے ہی نہیں عملی نمونہ پیش کر کے کرنا ہے۔منہ سے یہ کہنا کہ قرآنی تعلیم انجیل کی تعلیم سے بہتر ہے کافی نہیں۔ہم اس کو اسی وقت اچھی طرح ثابت کر سکتی ہیں۔جب نمونہ دکھا ئیں کہ اسلامی تعلیم کے مطابق ایسی زندگیاں اور ایسا معاشرہ ہوگا۔اب دنیا کا عیسائیت سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔دنیا روحانیت کی بھوکی اور پیاسی ہے۔ہمارا فرض ہے کہ جب مبلغین دور دراز کے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو ان کی بیویاں وہاں جا کر ایسا نمونہ پیش کریں۔جو صحیح اسلامی تعلیم کی عکاسی ہو۔وَلَا يَعْصِيْنَک کہ وہ آنحضرت ﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔آنحضرت ﷺ کی اطاعت گزار ہم تبھی ہوسکتی ہیں جب قرآن مجید کے احکام پر چلنے والیاں ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء کی تابعدار ہوں۔اب ہمارے سامنے حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے کئی تحریکیں پیش کی ہیں۔پہلی قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم ہے۔دوسری جو بچیوں سے تعلق رکھتی ہے وہ ہے وقف جدید کا 5,000 کا بجٹ پورا کرنے کی ذمہ داری جو حضور نے بچوں پر ڈالی ہے۔لجنات کے عہدیداران آٹھ یا دس دن کے اندر جا کر اطلاع بھجوائیں کہ ان کی ناصرات کرنا چندہ دے رہی ہیں۔آپ نے فرمایا ہمارے لئے سب سے اہم کام وہی ہے جو حضرت خلیفہ اسیح نے شروع کیا۔کوشش کریں کہ ناصرات کا چندہ اگر اطفال سے زیادہ نہیں تو کم از کم برابر ضرور ہو۔اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے وقف عارضی کی تحریک پیش کی ہے۔واقفین کی بہت ضرورت ہے۔مگر یہ واقفین ہماری بہنوں نے ہی تیار کرنے ہیں۔اگر آپ لوگ اپنی زندگیاں دین کی راہ