خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 383 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 383

383 أَعْمَالَهُمْ (سورة زلزال (7) اس دن لوگ مختلف گروہوں کی صورت میں جمع ہوں گے۔تا کہ اپنی کوششوں کے نتائج دیکھ لیں۔اس وقت دجالیت، دہریت اور عیسائیت متحدہ طور پر اسلام پر حملہ آور ہے۔ہماری جماعت نے اس کا مقابلہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ ہے کہ وہ اپنے مامور کو ایسی جماعت عطا فرمائے گا جو قربانی دینے والی ہوگی۔معمولی جماعت نہیں۔وَالْقَتْ مَا فِيْهَا وَتَخَلَّتْ (الانشقاق: 5) کے مطابق اپنے مال ، جان ، عزت اور جذبات غرض ہر چیز خدا کی راہ میں قربان کرنے والی ہوگی اور جو خدا اور اس کے رسول کی خاطر ان تمام چیزوں کو پھینک کر خالی ہو جائے گی۔اس لئے ضرورت ہے کہ باہمی اتحاد اور تعاون کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانیاں دیتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے والے ہوں۔اور ان وعدوں کو جو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے غلبہ کے متعلق اپنے مامور سے کئے ہیں قریب تر لانے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اصل مقصد اللہ تعالیٰ کا تو یہ ہے کہ ایک پاک دل جماعت مثل صحابہ کے بن جاو۔۔۔سوچو کہ جو شخص دنیا داری میں غرق ہے اور دین کی پرواہ نہیں رکھتا۔اگر تم لوگ بیعت کرنے کے بعد ویسے ہی رہو تو پھر تو تم میں اور اس میں کیا فرق ہے؟ بعض لوگ ایسے کچے اور کمزور ہوتے ہیں کہ ان کی بیعت کی غرض بھی دنیا ہی ہوتی ہے۔اگر بیعت کے بعد ان کی دنیا داری کے معاملات میں ذرا سا فرق آجاوئے تو پھر پیچھے قدم رکھتے ہیں یاد رکھو کہ یہ جماعت اس بات کے واسطے نہیں کہ دولت اور دنیا داری ترقی کرے اور زندگی آرام سے گزرے۔ایسے شخص سے تو خدا تعالیٰ بیزار ہے۔چاہئے کہ صحابہ کی زندگی کو دیکھو۔وہ زندگی سے پیار نہ کرتے تھے۔ہر وقت مرنے کے لئے تیار تھے۔بیعت کے معنے ہیں اپنی جان کو بیچ دینا۔جب انسان زندگی کو وقف کر چکا تو پھر دنیا کے ذکر کو درمیان میں کیوں لاتا ہے۔ایسا آدمی تو صرف رسمی بیعت کرتا ہے وہ تو کل بھی گیا۔اور آج بھی گیا۔یہاں تو صرف ایسا شخص رہ سکتا ہے جو ایمان کو درست کرنا چاہے۔انسان کو چاہئے کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی زندگی کا ہر روز مطالعہ کرتا رہے۔۔ملفوظات جلد چہارم صفحه 504 اسی طرح آپ فرماتے ہیں: میں یہی نمونہ صحابہ کا اپنے احباب جماعت میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو وہ مقدم کرلیں اور کوئی امران کی راہ میں روک نہ ہو۔وہ اپنے مال و جان کو بیچ سمجھیں خلاصہ یہ کہ ہمارا فرض یہ ہونا چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے جو یا اور طالب رہیں۔اور اسی کو اپنا اصل مقصود قرار دیں۔اور ہماری